عدنان مسعود کی سخن آرایاں۔ دروغ برگردن قاری

فصوص الحکم از ابن عربی

ابن عربی کا نام تصوف و فلاسفہ سےآگاہی رکھنے والوں کے لیے بڑی اہمیت کا حامل ہے۔ انکی مشہور زمانہ کتاب  فصوص الحکم کا اردو ترجمہ از مولانا عبدلقدیر صدیقی کچھ عرصے پہلے پڑھنا شروع کیا۔ اس کتاب کے ساتھ ساتھ اسکے عربی متن اور انگریزی ترجمے کو بھی ساتھ رکھا ، منشا یہ تھا کہ زبان و بیان کے تعلق سے ترجمے اور معنویت میں زیادہ فرق نا آئے، اس وجہ سے اس اصطلاحات سے پر دقیق کتاب کا مطالعہ مزید مشکل اور گھمبیر ہونے کے ساتھ ساتھ طول پکڑتا چلا گیا۔ تقریبا ساڑھے چار سو صفحات کی اس کتاب میں جو کہ فصوص الحکم کا ترجمہ و تشریح ہے اس میں اصل کتاب کا متن تو سو صفحات سے کچھ زیادہ نا ہوگا۔ ابن عربی کے متن پر اضافہ جات میں طریق اکبریہ ، شیخ کا ایک دوسرا طریقہ، شیخ کے معاصرین، شارحین فصوص الحکم ، شیخ کی تصانیف، طریقہ ترجمہ و شرح ، عقائد شیخ اکبر، شیخ کا فلسفہ وغیرہ شامل ہیں۔ اس کتاب کے کئی مختلف النوع انگریزی تراجم ایمزن پر موجود ہیں۔

فصوص الحکم یا حکمت کے موتیوں، جواہر  مندرجہ زیل مضامین پر مشتمل ہے۔

۱                                                           فص آدمیہ

۲                                                           فص شیشیہ

۳                                                           فص نوحییہ

۴                                                           فص ادریسیہ

۵                                                           فص مہمیتہ (ابراہیمیہ)

۶                                                           فص اسحاقیہ

۷                                                           فص اسماعیلیہ

۸                                                           فص یعقوبیہ

۹                                                           فص یوسفیہ

۱۰                                                         فص ہودیہ

۱۱                                                         فص صالحیہ

۱۲                                                        فص شعییہ

۱۳                                                        فص لوطیہ

۱۴                                                         فص عزیزیہ

۱۵                                                         فص عیسویہ

۱۶                                                         فص سلیمانیہ

۱۷                                                         فص داؤدیہ

۱۸                                                         فص یونسیہ

۱۹                                                        فص ایوبیہ

۲۰                                                         فص یحیویہ

۲۱                                                         فص زکرویہ

۲۲                                                         فص الیاسیہ

۲۳                                                         فص لقمانیہ

۲۴                                                         فص ہارونیہ

۲۵                                                         فص لقمانیہ

۲۶                                                         فص خالدیہ

۲۷                                                         فص محمدیہ

تعارف میں مفسر لکھتے ہیں کہ الشیخ محی الدین محمد بن علی بن محمد العربی الطائی الحاتمی.. یہ قبیلہ بنی طے اور حاتم طائ کی اولاد میں سے ہیں۔ سترھویں رمضان ٥٦٩ء میں تولد ہوئے.آپ کی تاریخ ولادت “نعمت” ہے. مولد مریسیہ از متعلقات اندلس یا اسپین یا ہسپانیہ اور وفات. بائیس ربیع الثانی ٦٣٨ء میں اس جہاں فنی سے جہاں باقی کی طرف توجہ کی. آپ کا سال وفات “صاحب الارشاد” سے نکلتا ہے۔

فصوص الحکم کی بہت سی زبانوں میں تفسیر و تشریح کی گئی ہے۔ عربی میں حسب ذیل شروح فصوص الحکم موجود ہیں۔

شیخ موید الدین بن محمود الجندی.
شیخ صدر الدین القونوی.
داؤد بن محمود الرومی القیصری.
نور الدین عبدالرحمان جامی
عبدالغنی النابلسی۔
الکاشانی.

فارسی شروح کچھ یوں ہیں۔

 نعمت الله شاہ ولی
مولوی احمد حسین کان پوری

اردو ترجموں میں  عبدالغفوردوستی اور مولوی سید مبارک شامل ہیں۔

اس کتاب کا نفس موضوع تصوف ہے اور اس میں کئی پیچیدہ مسائل سے گفتگو کی گئی ہے۔ شرح کا کام عبدالقدیر صدیقی صاحب نے خوب کیا ہے اس لیے اس تعارف میں انکے اقتباسات جا بجا مستعمل ہیں۔ اپنی شرح کے بارے میں لکھتے ہیں کہ

دیگر شارحین فصوص الحکم میں شیخ قرآن شریف میں انبیاء کے قصوں. اور ان کے حالات میں جو کچھ آیا. ان سے یا تو بطور اعتبار کے مسائل توحید و تصوف کو استنباط کرتے ہیں مگر شیخ کے قول کی تاویل نہیں کرتے. نہ ان کے عقائد سے جو فتوحات مکیہ کے شروع میں بیان کئے گئے ہیں، توفیق و تطبیق دینے کی سعی کرتے ہیں دوسرے شارحین کے برخلاف’ فقیر شیخ کے قول کی تاویل کرتا ہے. اور ان کے عقائد کے ساتھ توفیق دیتا ہے.لوگوں کو شیخ کی طرز تحریر سے واقف نہ ہونے کی وجہ سے بڑی بڑی غلط فہمیاں ہو رہی ہیں. بعض ان کو قطب معرفت سمجھتے ہیں. اور قرآن شریف کی آیتوں کی تاویل کرتے ہیں. مگر شیخ کے اقوال کی تاویل نہیں کرتے اور بعض ان کے برعکس شیخ کی تکفیر میں بھی تقصیرنہیں کرتے.

افلاطون کا ذکر اابن عربی کی اکیلیز ہیل ہے، اس بابت میں  طریق ترجمہ و شرح میں رقم طراز ہیں کہ

 بعض نادان یورپ زدہ’ شیخ کے فلسفے یا حکمت کو افلاطون کا فلسفہ سمجھتے ہیں. مگر ان کی سمجھ میں نہیں آیا’ کہ تمام کتاب جندی بغدادی’ ابو یزید بسطامی. سہیل بن عبدالله تستری کے اقوال اور آیات قرآن مجید و احادیث شریف سے بھری پڑی ہے. اور اپنے کشف کا بھی جابجا ذکر کرتے ہیں.مگر اس میں افلاطون کا کہیں’ایک جگہ بھی ذکر نہیں ہے. اول تو یہ ثابت ہی کب ہوا ہے کہ فلسفہ افلاطون کی کتاب شیخ کو پہنچی بھی تھی.کسی دشمن مسلمانان نے لگا دیا کہ شیخ نے افلاطون سے لیا. اور مقلدوں کے لئےبس آیت اتر آئی. ظالم اڑاتے ہیں کہ امام ابو حنفیہ نے رومن لا سے لیا. یا تو راة انور شیرواں سے لیا. ان کو معلوم نہیں کہ عقائد و فقہ کے اصول ہیں کیا. یہاں قرآن و حدیث کی شرح و تفسیر تو ہو سکتی ہے ان سے احکام استنباط کا کئے جاتے ہیں. ان کے خلاف ایک مسلہ بھی چل نہیں سکتا. یہ کمال جہل و تقلید میں. کمال علم و تحقیق کا ادعا ہے ہم کو دشمنوں کے کہنے سے تکلیف نہیں ہوتی. دوستوں کے دشمنوں کا ساتھ دینے سے ایذا ہوتی ہے.

شیخ کے کلام میں بکثرت مشاکلہ ہے.مشاکلہ عربی زبان میں بھی ہے. اور دوسری زبانوں میں بھی.اشعار میں بھی ہے’اور نثر میں بھی. کلام الله میں بھی. اور دوسروں کے کلام میں بھی. مشاکلہ کیا ہے. ایک لفظ پہلے آتا ہےاور اپنے اصلی معنی میں رہتا ہے.. پھر وہی لفظ دوبارہ آتا ہے. اور اس سے دوسرے معنی؛ مراد لیے جاتے ہیں.مثلاً ایک شخص کہے.تمنے مجھے خباثت کی.اب میں بھی دیکھو کیسی خباثت کرتا ہوں یعنی خباثت کا انتقام لیتا ہوں عرب شاعر کہتا ہے..

” قالو اقترح شیاء نجدلک طبخة، قلت أطبخوالي حبثه و قميصا “

“لوگوں نے کہا کچھ کھانے کی فرمائش کرو. ہم اس کو اچھی طرح سے پکائیں گے.”

میں نے کہا ایک جبہ و قمیض پکاؤ. یعنی ایک جبہ و قمیض سی دو.

قرآن مجید میں ہے

“ومکرو او مکرالله والله خیرالماکرین”… انہوں نے مکر کیا اور الله نے اس کی سزا دی.الله مکاروں کو سزا دینے میں بہت سخت ہے.

ابن عربی کا اسلوب اور کتاب کا موضوع فلسفہ و تصوف کا ایک ایسا امتزاج ہے جس کے بارے میں زیادہ کہنے سننے کی گنجائش نہیں، وہ صرف پڑھنے سے ہی تعلق رکھتا ہے۔ ایک جدید تعلیم یافتہ فرد کے لیے اس میں معنویت کی ایک دنیا چھپی ہے۔ مصنف فصوص لکھتے ہیں۔

زمانه عدم اور زمانه وجود مثل معاً ہیں. جس طرح اشاعرہ کے پاس اعراض و صفات پر ہو رہا ہے. اور ہرآن’ ہر لحظہ تجدد امثال اعراض پر ہو رہا ہے. اسی طرح صرف ذات حق موجود مستقبل ہے. اس کے سواۓ جتنے موجودات ہیں. سب غیر مستقل ہیں. دائمی طور پر محتاج الی الحق ہیں ہر آن ہر لحظ متجدد ہیں.

تجدد امثال کا مسئلہ جو حصول تخت بلقیس میں چھیڑا گیا ہے. مشکل ترین مسائل سے ہے مگر اس قصے میں ابھی جو میں نے بیان کیا اس کے سمجھنے والے کے لیے کچھ  دشوار نہیں. آصف بن برخیا کی فضلیت و بزرگی یہی ہے کہ وہ ادو جود ‘ وہ تجدید تخت بلقیس’ وہ تجلی الٰہی جو تخت بلقیس پر ملک سبا میں ہو رہی تھی. اس کو سلیمان کے سامنے مجلس میں کھینچ لیا.اور تخت موجود ہو گیا. پس حقیقت میں تخت نے نہ قطع مسافت کی.نہ اس کے لیے زمین لپیٹ دی گئی اور نہ دیواروں کو تھوڑا پھوڑا. اس مسئلے کو وہی سمجھتا ہے’ جو تجدد امثال کو منتا ہے. جو تجلی الٰہی کو اپنی طرف متوجہ کر سکتا ہے.

یہ تصرف بعض اصحاب سلیمان علیہ السلام سے ظاہر ہوا تا کہ اس کا اثر بلقیس اور ان کے ہمراہیوں کے دلوں پر عظمت و مرتبت سلیمان علیہ السلام کے لیے پڑھے. اس تصرف کا سبب یہ ہے کہ سلیمان علیہ السلام’ داؤد علیہ السلام کو الله تعالیٰ کی طرف سے عطیہ وہیہ تھے. الله تعالیٰ فرماتے ہے. ” ووھبنا لداود سلیمان ” ہم نے داؤد کو سلیمان عطا کیا. ہبہ کیا ہے. واہب کا موہوب لہ بطور انعام دینا. نہ بطور جزاۓ عمل اور نہ بر بناۓ استحقام. پس سلیمان الله تعالیٰ کی نعمت سابقہ و حجت بالغہ اور اعداد کے لیے سر شکن ضرب ہیں.

اب سلیمان کے علم پر غور کرو.الله تعالیٰ فرماتا ہے ” ففھمنھا سلیمان ” ہم مستقراعندہ ” آیا ہے. یعنی تخت بلقیس’ سلیمان کے پاس حاضر و قرار پذیر تھا. آصف کا تخت کو حاضر کرنا نظر تحقیق میں ہمارے پاس اتحاد زمان کے ساتھ نہ تھا بلکہ وہاں اعدام و ایجاد’اور سبا سے معدوم کرنا اور بار سلیمانی میں موجود کرنا تھا. اس کو تجدد و امثال کہتے ہیں  ہر آن ہر شے قہر احدیت سے معدوم ہوتی ہے. اور پھر اسکو رحمت امتنانی موجود کرتی ہے. مگر عارفین کے سوا اس کو کوئی محسوس نہیں کرتا.دیکھو قرآن شریف میں ہے. ” بل ھم فی لبس من خلق جدید “

یعنی بلکہ انکو التباس اور دھوکا ہو گیا ہے. تازہ پیدائس و خلق جدید سے کہ وہی اگلی شے ہے. ان پر کوئی زمانہ ایسا نہیں گزرتا کہ جس شے کو دیکھ رہے ہوں ‘ نہ دیکھا ہو…

جب معلوم ہو گیا کہ ہر شے میں تجدد امثال ہے.اعدام و ایجادہے. نیستی کے ساتھ ہستی لگی ہوئی ہے. ایسا نہیں ہے کہ ایک شے موجود ہو کر حق فیوم کی طرف دائمی موحتاج نہ رہی ہو بلکہ ہر شے کو آن امداد وجود ہوتی ہے.اور قیوم جل جلالہ کی طرف دائمی احتیاج رہتی ہیں. بہر حال تخت بلقیس کو ملک سب میں نیست و نابود ہونا اور حضرت سلیمان علیہ السلام کے حضور میں ہست موجود ہونا یہ  دونوں عمل ساتھ ساتھ تھے. اور یہ ہر دم میں ہر سانس میں تجدید حلق’ اور تازہ امداروجود کا نتیجہ ہے. اس کا علم ہر شخص کو نہیں ہوتا. بلکہ انسان خود کو نہیں سمجھتا،. کہ وہ ہر آن لا یکون اور پھر یکون ہوتا ہے. معدوم ہوتا ہے’ موجود ہوتا ہے.یہاں ثم اور پھر مہلت کے لیے نہ سمجھو بلکہ یہاں ثم اور پھر لفظ صرف تقدم  تقرم بالعیتہ کا مقتضی ہے جیسے کہتے ہیں کہ اول ہاتھ پڑتا ہے پھر کنجی پھرتی ہے.یہاں حرکت ید کو حرکت مفتاح پر تقدیم بالعیتہ ہے ایسا ہر گز نہیں کہ ہاتھ پڑنے کیے زمانے کے بعد کنجی پھرتی ہے. عربی زبان میں بعض خاص  خاص مقام میں “ثم بلا”  مہلت بھی مستعمل ہوتا ہے. وک شاعر کہتا ہے ” کھزالردینی ثم اضطرب ” جیسے نیزہ روینی کا ہلانا  پھر اس کا ھل جانا ظاہر ہے کہ نیزے کے ہلانے کا زمانہ اور اس کے ہلنے کا زمانہ یہ ساتھ ساتھ ہیں. اور یہاں ثم اور پھر مہلت کا مقتضیٰ بندے کا ظہور حق تعالیٰ پر موقف ہے اور بندے کے اعمال اس کی وجہ سے صادر ہوئے ہیں. حق تعالیٰ کا اسم الباطن والا ہے جب تم خلق کو دیکھو اس پر غور کرو. تو معلوم ہو جاۓ گا کہ کون کس اعتبار سے اول ہے.ظاہر ہے باطن ہے.

اسمائےالٰہی کی معرفت اور ان کی نسبت سے عالم میں تصرف نصیب ہوتا ہے. پس یہ معرفت حضرت سلیمان علیہ السلام کو بھی حاصل تھی بلکہ سلیمان علیہ السلام نے جو دعا کی تهی. “رب هبلی ملکا لا ینبغی لاحد من بعدی”  میرے پروردگار مجھے ایسی بادشاہی عطا کر کہ میرے بعد پھر کسی کو حاصل نہ ہو. وہ بادشاہی’ وہ ملک اصل میں یہی معرفت اسماۓ الٰہی ہے. کیا ایسی حکومت کسی کو سلیمان کے سوا ملی ہی نہیں. قطب وقت. وقت زمانہ. تو تمام عالم کا شہنشاہ. اور حاکم علی الاطلاق ہوتا ہے. بیشک قطب زمانہ حاکم علی الاطلاق ہوتا ہے. اسی میں تجلی اعظم رہتی ہے.  حضرت سلیمان علیہ السلام  کی مراد ملک سے ظاہر و عالم شہادت کی حکومت اور تصرف عام ہے. دیکھو محمّد صلی الله علیہ وسلم کو الله نے سب کچھ دے رکھا تھا. آپ کی باطنی حکومت اس سے زیادہ ہی تھی. مگر آپ نے عالم شہادت میں اس کو ظاہر نہیں کیا.

ابن عربی کی دیگر تصانیف مندرجہ زیل ہیں

عقلہ المستوفرہ.
عقیدہ مختصرہ.
عنقائے معرب.
قصیدہ البلادرات تقعینیہ..
القول النفیس..
کتاب تاج الرسائل..
کتاب الثمانیہ و الثلا ثین وھو کتاب الازل..
کتاب الجلالہ…’
کتاب مااتی بہ الوارد.
کتاب النقبا..
کتاب الیادہو کتاب الہود.
مجموعہ رسائل ابن العربی
مراتب الوجود.
مواقع النجوم.
فتوحات مکیہ       چار بڑی بڑی جلدوں میں.
نقش النصوص   اس کی شرح مولانا جامی نے کی ہے اور اس کا نام النصوص ہے
تفسیر صغیر       جو مطبوعہ مصر ہے’ عام طور سے ملتی ہے..
تفسیر کبیر         جو سنتے ہیں کہ فرانس کے کتب خانے میں قلمی ہے..

Share

کوانٹم طبعیات اور ہگز بوسون

 اگر آپ نے راقم کی طرح نوے کی دہائ میں کالج اور جامعہ کی تعلیم مکمل کی ہو تو آپکو یاد ہوگا کہ ہمارے نصاب میں کوانٹم طبعیات کے بارے میں کچھ  زیادہ  تذکرہ نا ہوتا تھا ۔ذراتی طبعیات مں کوارکس کا ذکر تو سنا لیکن اس کی اسپن اور چارم سے کوئ خاص یاداللہ نہ ہو پائ۔ اگر آپ کا بھی یہی حال ہے تو حل حاضر ہے۔ اس ماہ  کا سائنٹفک امیرکن کا شمارہ راشد کامران سے مستعار لے لیں

اور اگر یہ ممکن نا ہو تو یہ چھوٹی سے ویڈیو جو پی ایچ ڈی کامکس والوں نےہگز بوسون ذرے پر بنائ ہے وہ دیکھ لیں،یقینا افاقہ ہوگا۔

Share

ایک مشاعرہ ہاے فرنگ کی مختصر روداد

جب سے ہمارے عزیز دوست راشد کامران نے چوغہ انٹرورٹیہ پہنا ہے یا یہ کہا جائے کہ کلازٹ میں جا بسے ہیں، ہمیں ادبی محفلیں اکیلے ہی نمٹانی پڑ رہی ہیں۔ اسی طرح کی ایک محفل مشاعرہ لاس اینجلس ٹایمز کے کتب میلے میں بھی برپا تھی جہاں پہنچ کر ہم نے سوچا کہ چلو آج انگریزی مشاعرہ بھی سنتے ہیں۔ سچ بتایں تو بڑی مایوسی ہوئ،نا تو داد و تحسین کے ڈونگرے، نا مکرر کی تکراروں میں پان کی گلوری کی پچکار، نا کوئ صدر مجلس، نا ہی  کوئ شاعروں کا پینل اور تقدیم و تاخیر کا اصرار۔  بھلا یہ بھی کوئ مشاعرہ ہوا۔شعر معنویت سے بھرپور و گہرے ہونا ہی تو سب کچھ نہیں ہوتا، بقول ہمارے جامعہ کے ساتھی شعیب سلیم کے، ٹیمپو بننا چاہیے۔

  اب زرا رنگ حنا پر کچھ تازہ کلام ملاحظہ ہو جس میں مملکت خداداد کا بھی نام آتا ہےکہ یہاں سرخ رنگ کمیاب ہے۔

یہ نظم بھی خاص ہے کہ اس میں شعرا کے جھوٹ کی فہرست بنی گئِ ہے۔

یہ صاحب اپنے آپ کوجدید دور کا شاعر کہتے ہیں اور ریپ کے انداز میں شاعری کرتے ہیں۔فیس بک پر انکی شاعری کا کوئ جواب نہیں، یعنی کہ سوشل میڈیا نے انسانی تعلقات پر جو گھرے اثرات مرتب کئے ہیں، وہ انکی زبانی ہی سنیے۔

بہرحال، حاصل کلام یہ ہے کہ دیسی مشاعری دیسی مشاعرہ ہی ہوتا ہے۔ رسائٹل کیا جانے زعفران کا بھاو!

Share

!اسما محفوظ، تیری جرات کو سلام

اگر آپ اپنے ملک میں ہونے والی تحریک آزادی کے ایک سرگرم  ثقہ کارکن ہوں، امریکہ میں موجود ہوں اور آپکی اپنی فوجی حکومت آپکے لیے گرفتاری کا پروانہ جاری کردے تو آپ کیا کریں گے؟ سیاسی پناہ کی درخواست یا پھر ممکنہ قیدوبند میں واپسی؟ ہم میں سے بہت سوں کے لیے یہ سوال ایک نو برینر کی حیثیت رکھتا ہے لیکن اسما محفوظ کے  لیے نہیں، وہ اپنے مقرر کردہ وقت پر مصر واپس لوٹ رہی ہیں۔ فراعنہ کی سرزمین میں جرات موسی رکھنے والی زینب الغزالیوں کی منزل مکمل آزادی یا موت ہے۔

کل رات مصر کی تحریک حریت کی اس کارکن اور ہیرو کو اکنا کے ایک عشائیے میں سننے کا اتفاق ہوا۔ یہ عشائیہ واے اسلام نامی دعوتی تنظیم کی جانب سے منعقد کیا گیا تھا جو ریاستہاے متحدہ امریکہ میں دین کی دعوت کا کام کرتی ہے اور راقم کو اس سے تعلق کا شرف حاصل ہے۔ بیس منٹ کی ایک تقریر میں بہن اسما نے مصر کی تحریک آزادی، تحریر اسکوائر کے مناظر اور نوجوانان کے کردار کو اسقدر پر اثر طریقے سے بیان کیا کہ سامعین کی آنکھیں تر ہوگئیں، انکا کہنا تھا کہ انہیں تو مغربی میڈیا کی بدولت لوگ جانتے ہیں لیکن وہاں قید وبند میں  ہزاروں ایسے  کارکنان ہیں جنہوں نے اپنے ہاتھ، آنکھیں اور دیگر اعضا کھو دیے ہیں، سینکڑوں نے اپنی جانیں جان آفرین کے سپرد کردیں اور ان کا نام بھی کسی کو معلوم نہیں، لیکن کوئ بات نہیں کیونکہ اللہ تعالی کو ان کا نام معلوم ہے اور یہی سب سے اہم بات ہے۔

جرات اور استقامت کے اس زندہ نشان نے جب یہ آیت پڑھی کہ اِنَّ اللّٰهَ لَا يُغَيِّرُ مَا بِقَوْمٍ حَتّٰى يُغَيِّرُوْا مَا بِاَنْفُسِهِمْ, خدا اس قوم کی حالت تب تک نہیں بدلتا جب تک وہ اپنی حالت خود نہیں بدلتی تو بے ساختہ اپنے وطن کی یاد آگئی۔ اسما محفوظ کی بنیادی وجہ شہرت انکی یہ ویڈیو ہے جو انہوں نے جنوری ۲۰۱۱ میں یوٹیوب پر پوسٹ کی تھی۔مصری خاتون صحافی منى الطحاوى کے مطابق اس ویڈیو نے مصری انقلاب کے شعلے کو مہمیز دی اور اکثر مبصرین کے مطابق یہ تحریک انقلاب کی وجہ بنی۔ اس مختصر پیغام اور بعد کی تقاریر میں اسما محفوظ کہتی ہیں کہ

میں یہ ویڈیو آپ کو ایک سادہ سا پیغام دینے کے لئے بنا رہی ہوں، ہم 25 جنوری کو تحریر اسکوائر جارہے ہیں۔ اگر ہم اب بھی غیرت کے نام پرزندہ رہنا چاہتے ہیں، اور ہم اس زمین پر وقارمیں جینا چاہتے ہیں تو ہمیں 25 جنوری کو تحریر اسکوائر جانا ہے … جو شخص یہ کہتا ہے کہ اسکا کوئ فائدہ نہیں کیونکہ وہاں بہت تھوڑے سے اور مٹھی بھر ہی لوگ ہونگے وہ جان لے کہ وہ انتظامیہ سے قطعی مختلف نہیں۔  اس جیسے غداروں کی وجہ سے ہی سیکیورٹی فورسز ہمیں گلیوں اور سڑکوں پر دوڑا کر مارتی ہے۔  آپ ۲۵ جنوری کو ضرور چلیں،  اگر آپ خواتین کے عزت و وقار کے بارے میں فکرمند ہیں تو آئیں اور تحریر اسکوائر میں اسکا دفاع کریں۔

اسما محفوظ نے اپنی تقریر میں کہا کہ انکو اس بات کی فکر ہے کہ مسلمان اور اقوام عالم اب مسلسل قتل عام اور ظلم و ستم دیکھ کر بے حس ہوتے چلے  ہیں،اور جو جوش و جذبہ مصر و لیبیا میں نظر آیا اب وہ شام میں نظر نہیں آتا جہاں پر روزانہ ایک جابر حکمران اپنے عوام پر جبر واستبداد کے پہاڑ توڑ رہا ہے، مصر کی موجودہ صورتحال پر ایک سوال کا جواب دیتے ہوے انہوں نے کہا کہ ابھی وہ منزل جس کے لیے قربانیاں دی گئ ہیں وہ دور ہے۔ فوجی حکمرانوں نے ایمرجنسی قوانین کو دوبارہ لاگو کرنے کی سعی شروع کر رکھی ہے اور مجلس العسکری کی سیاست سے علیہدگی ضروری ہے۔

اللہ تعالی سے دعا ہے کہ وہ جرات و صداقت کی علمبردار ، تحریک حریت کی اس سپاہی اور تمام لوگ جو ظالم حکمران کے خلاف آواز بلند کرتے ہیں ان کو اپنی حفظ و امان میں رکھے، آمین۔

Share

دو نظریاتی ریاستیں

سنہ ۱۹۴۷/۴۸ میں دو عدد نظریاتی ریاستی معرض وجود میں آئ تھیں جن کی بنا قومیتوں کی مذہبی بنیاد پر تقسیم تھی۔

نظریے پر عمل کتنا ہوا، اس کا اندازہ ان دو سرخیوں سے ہوجاتا ہے۔

سابق اسرائلی صدر موسے کاستو کو عدلیہ نے سات سال قید کی سزا سنا دی۔

پاکستان کی سپریم کورٹ نے وزیراعظم یوسف رضا گیلانی کو قومی مصالحتی آرڈینینس یعنی این آر او پر عملدرآمد سے متعلق مقدمے میں عدالتی فیصلے پر عمل نہ کرنے اور توہین عدالت کا مرتکب ہونے  پر ایک منٹ کی سزا سنا دی ہے۔

جرائم کی نوعیت نہایت مختلف سہی لیکن اینکڈوٹ اچھی بنی ہے۔

Share

گریجویٹ اسکول کے طلبہ کی کہانی، ایک فلم کی زبانی

پروفیسر صاحب رحم کریں، اگر میرا پی ایچ ڈی مکمل نہیں ہوا تو میں کیا کروں گا، میرے پاس تو کوئ بیک اپ پلان بھی نہیں
میاں، یہ تو تمہیں کیلٹیک میں داخلے سے قبل سوچنا چاہیے تھا، کسی چھوٹی موٹی یونیورسٹی میں چلے جاتے اگر یہ بات تھی تو، ایم آئ ٹی تھی نا۔

یہ مکالمہ پی ایچ ڈی مووی کا ہے جو پروفیسر اسمتھ اور اسکے شاگرد ونسٹن کے درمیان ہوتا ہے۔ اگر آپ کو تکنیکی کامکس کا شغف ہے تو ڈلبرٹ، ایکس کے سی ڈی اور پی ایچ ڈی کامکس سے ضرور واقفیت ہوگی۔ پی ایچ ڈی کامکس تحقیقی اسکول کے طلبہ کی زندگی پر مبنی واقعات کو طنزیہ انداز میں پیش کرتے ہیں۔پایلڈ ہائ اینڈ ڈیپر کے خالق ہورہے چام*، جو خود اسٹانفرڈ ہونیورسٹی سے میکینکل انجینئرنگ میں ڈاکٹریٹ کی ڈگری رکھتے ہیں ، انہوں نے اس بار کامک سے بڑھ کرتقریبا ۷۰ منٹ کی ایک فلم بنا ڈالی جس کے تمام اداکار طلبہ و طالبات ہیں اور اس کی فلم سازی کالٹیک یونیورسٹی ہی میں کی گئی ہے۔

 

دو گریجویٹ طالبعلموں کی زندگی پر مبنی یہ فلم گریجویٹ اسکول کے تحقیقی کام، پروفیسروں کی بے اعتنائ اور پوسٹ ڈاکس کی زندگی کے گرد گھومتی ہے۔چونکہ راقم کیلٹیک کے آس پڑوس میں وقت گزارنے اور وہاں موجود ستار بخش پر راشد بھائ کے ساتھ گپیں لگانے میں ید طولی رکھتا ہے لہذا ہمیں تو اس کے تمام آوٹ ڈور سیٹس کو دیکھ کر بڑا مزا آیا۔ اس فلم کے مخصوص طرز بیاں اور موضوع کی بنیاد پر شائد عام افراد تو اتنا لطف نا اٹھا سکیں لیکن اگر آپ نے گریجوٹ اسکول یعنی ماسٹرز اور پی  ایچ ڈی میں وقت گذارا ہے تو آپ اس سے بھرپور انداز میں حظ اٹھا سکیں گے۔

*جی ہاں، اسے ہورہے ہی پڑھا جاتا ہے، جورج نہیں۔یہ ہسپانوی زبان کے لفط ج کا تلفظ ہ سے کیا جاتا ہے، جیسے سان ہوزے درست ہے اور سان جوز غلط۔

Share

لاس اینجلس کتب میلے کی ایک تصویری روداد

 ہر سال کی طرح اس سال بھی لاس اینجلس ٹایمز اخبار کی طرف سے دو روزہ کتب میلے کا انعقاد کیا گیا۔ اس سال یہ کتب میلہ یو سی ایل اے کے بجاے یو ایس سی یعنی یونیورسٹی آف سا تھرن  کیلیفورنیا میں منعقد ہوا جہاں  اس میں ہزاروں افراد اور کتب فروشوں نے شرکت کی۔ اس اینجلس ٹائمز فیسٹیول 1996 ء میں شروع ہوا اور امریکہ میں ہونے والا سب سے بڑا کتب میلا  بن گیا جہاں یہ تہوار  ہر سال 140،000سے زیادہ کتابوں سے محبت کرنے والوں کو اپنی طرف متوجہ کرتا ہے۔

 ہر سال کی طرح اس دفعہ بھی کتابوں کی محبت ہمیں بھی کشاں کشاں کھینچ لے گئی۔ یہاں تکنیکی کتب تو خیر کم ہی تھیں لیکن دیگر موضوعات پر ہزاروں کتب اور کتب فروشگاں  موجود تھے۔اسکے علاوہ بہت سے مشہور مصنفین بھی اس تہوار میں موجود تھے،

بچوں کے لئے خوب انتظام تھا اور  بچوں کے لئے کتابیں لکھنے والے بھی بہت موجود تھے جو بچوں کو کہانیاں سنا رہے تھے اور داد وصول کر رہے تھے۔انہی کہانیاں سنانے والوں اور کتابوں پر دستخط کرنے والوں میں کریم عبدالجبار بھی شامل تھے۔

اتنا بڑا میلا ہو اور آئ فون کی ایپ نا ہو، یہ کیسے ہو سکتا ہے!

ایپ کے علاوہ بھی جگہ جگہ جدول اور مصنفین کی آمد و کتابوں کی دستخط کا نظام الوقات ٓآویزاں تھا۔

نیے مصنفین نے لیئے سیکھنے کی ورکشاپ کا بھی انتظام کیا گیا تھا

 

 ایک  جانب مشاعرہ بھی گرم تھا اور ایک شاعر صاحب اپنے شعروں پر دادوں کے ڈونگرے وصول کر رہے تھے!

ایک جانب یو ایس سی کے طلبہ اپنے اساتذہ کی کتابیں اس دعوے کے ساتھ بیچ رہے تھے کہ ان کو پڑھ کر آپ بھی ایسے جہاز بنانے شروع کردیں گے!

گروچو کا یہ قول سچ بات ہے ہمیں تو بہت پسند آیا!

پیسیفیکا ریڈیو جس کا قبلہ بائیں بازو کے بھی بائیں جانب ہوتا ہے  وہاں سے براہ راست نشریات کر رہا تھا۔

۔ہر سال کی طرح اس سال بھی دعوت کی تنظیم  واے اسلام کی جانب سے اسٹال لگاے گے تھے ، ان میں ہر سال چار سے پانچ ہزار قران کی کاپیاں تقسیم کی جاتی ہیں۔ اس سال کی خاص بات یہاں موقع پر ایک فرد کا قبول اسلام ہے ۔۔

 کتابوں کے جھرمٹ میں ایک یادگار دن

Share

محرمات اور انسانی قوانین- اسفل السافلین

بی بی سی پر یہ عبرت انگیز خبر پڑھی، کہ نکاح محرمات کے بنیادی ‘انسانی حق آزادی’ کو یورپی عدالت نے تسلیم کرنے سے انکار کردی,، اگر یہی نفرین فعل چار سو میل دور بیلجیم یا فرانس میں ہوتا تو قابل مواخذہ نا ٹہرتا، کیا بات ہے انسانی قوانین آزادی کی۔

 لیکن قوانین جمہور و لبرلزم کے علمبردار یہ بتائن کہ اگر انسان کو قانون سازی کا مطلق حق حاصل ہے تو اس امر قبیح میں برائ ہی کیا ہے؟ جب لوگوں کو ہمجنس پرستی پرعائد پابندیاں زہر لگتی ہیں اور وہ اسے مملکت خداداد میں جاری و ساری دیکھنا چاہتے ہیں تو نکاح محرمات بھی تو صرف ایک معاشرتی ٹابو ہی ہے، اس کو بھی روند ڈالیے ۔ رہی بات پیدائشی موروثی نقائص کی تو پھر یوجینکس میں کیا برائ تھی، اس کو بھی جاری و ساری رکھا جاتا۔ تعدد ازواج کی مغربی پابندی بھی تو ایک معاشرتی قدغن ہی ہے، اسکا کیا جواز بنتا ہے۔ کہنے کا مقصد یہ ہے کہ لبرلیت و نام نہاد روشن خیالی کے علمبردار لوگ جو ‘رضامند عاقل و بالغ’ افراد کے افعال پر کسی قسم کی بیرونی قدغن نہیں پسند  کرتے انہیں کم از کم اصولی طور پر پر تو ان پیٹرک سٹیوبنگ اور سوزان کارولسکی کے حق میں آواز بلند کرنی چاہیے۔ یہ کیا دہری پالیسی ہے حیات من النزاعات کی کہ انسانی عقل کل ہے بھی اور نہیں بھی۔ موروثی نقائص کا مسئلہ ہے تو قطع القناة  یا نسبندی اور إستئصال الرحم کے بعد تو اس میں کوئ کجی نہیں رہ جاتی، العیاذ باللہ

غرضیکہ جو لوگ خدائ احکام کے بجاے انسانی قوانین کو بنیادی معاشرتی اقدار کے لیے هیئت حاکمیه کا درجہ دیتے ہیں وہ ایک ایسی ٹیڑھی شاہراہ پر سفر کرتے ہیں جس کا انجام گمراہی کا گڑھا ہے جہاں کسی فوٹون کی توانائ کچھ کام نا آئے گی۔

قال سمع النبي صلی الله عليه وسلم رجلا يعظ أخاه في الحيا فقال إن الحيا شعبة من الإيمان

Share

ڈاکٹر شیلڈن کوپر کا اردو بلاگران کے نام ایک تعارفی خط

عزیزاردو بلاگران، ہیلو

آپ کا شائد مجھ سے غائبانہ تعارف ہو کہ مجھے یہ بتایا گیا ہے کہ آپ میں سے بہت میرے فن کے قدردان ہیں۔ چونکہ عاجزی و تواضع سے میں کچھ متصف نہیں لہذا شکریہ وغیرہ کے تکلفات سے بندے کو  یکسرآزاد سمجھیں۔ آپ کو یقینا میری اردو پر حیرت ہورہی ہوگی۔ یہ دراصل میرے کوانٹم الگارتھم اور گوگل ترجمہ گھر کا امتزاج ہے جو ابھی یو ایس سی کے ہیرہ کمپیوٹر پر پروٹوٹایپ کے طور پر چلایا جارہا ہے۔ آپ کی مجھ سے غائبانہ آشنائ غالبا میری زندگی پر بننے والی سیریز بگ بینگ تھیوری سے ہوئ ہوگی جس میں میرے تین عدد دوستوں لینرڈ ہافسٹیڈر پی ایچ ڈی، راجیش کوتراپالی پی ایچ ڈی اور ہاورڈ ولوٹز محض ماسٹرز, اور میری سماجی و نجی زندگی کی ریکارڈنگ کی جاتی ہے۔ لوگ اس سے خاصہ حظ اٹھاتے ہیں، نامعلوم کیوں؟ ہماری زندگی کیلٹیک یونیورسٹی میں ہماری تحقیق اور کامک بک اسٹور کی تفریح کے گرد گھومتی ہے۔

۔ اس خط کو لکھنے کی ترغیب عدنان مسعود نامی ایک بلاگر نے اس نسبت سے دلوائ کہ وہ بھی میرے، رچرڈ فائنمن اور آئنسٹائن کے شہر پاساڈینا کے باسی رہے ہیں۔ان بلاگر صاحب کے حق میں حق ہمسائگی کہیں یا رحم دلی کیونکہ صرف ماسٹرز کئے ہوے لوگوں کی درخواست پر تو میں ریسٹورانٹ کا بل بھی نہیں سائن کرتا، آپ ہارورڈ سے پوچھ لیں کیونکہ اسکے پاس بھی صرف ماسٹرز کی ڈگری ہے، بے چارہ۔ مجھے یہ بتایا گیا تھا کہ یہاں اردو بلاگستان میں بھی میری طرح خود پسند و بزعم خود دانا افراد کا ہجوم ہے۔ کچھ لوگوں کو تو گمنام تبصرے پڑھ کر میرے چبھتے ہوے فقرے یاد آجاتے ہیں جن کے لکھنے والوں کو پیار سے ٹرول کہا جاتا ہے، بہرحال آپکو میری اسِٹیون ہاکنگ سے ملاقات تو پسند آئ ہوگی، معذرت کے میں ہگس بوسون زرے کے مقالے میں ریاضی کی غلطی پر بے ہوش ہو گیا۔

بزنگا۔۔۔ معذرت، ہاہا، یہ اچھا مزاق ہے۔

اچھا اب اجازت،

ڈاکٹر شیلڈن کوپر،بی ایس، ایم ایس، ایم اے، پی ایچ ڈی، ایس سی ڈی، آی کیو ۱۸۷۔ سائنسدان ماہر نظریاتی طبیعیات

Share

ٹیورنگ کی مشین

ایلن ٹیورنگ ایک برطانوئ ریاضی دان، منطقیات کا ماہر اور آج کی اصطلاح کے مطابق ایک  کمپیوٹر سائنسدان تھا۔ اس نے کمپیوٹر سائنس کی تخلیق و ترقی میں انتہائی اہم کردار ادا کیا ہے۔ الگارتھم اور جدید کمپیوٹرائزڈ حسابیات کو ٹیورنگ مشین کی مدد سے حل کرنے کا نظریہ،  جسے نظریاتی کمپیوٹر سائینس کی اساس قرار دیا جاتا ہے، اسی کے ذہن کی پیداوار ہے۔

عمومی طور پر ٹیورنگ کا سب سے بڑا کارنامہ دوسری جنگ عظیم میں اتحادیوں کے لیے جرمنوں کے خفیہ پیغامات کو توڑنے کی مشین ایجاد کرنا سمجھا جاتا ہے۔ جرمنوں کے خفیہ پیغامات ارسال کرنے کے لیے کرپٹاگرافی کا سہارا لیا اور ایک مشین اینگما کے نام سے ایجاد کی جو کہ جنگی پیغامات کو خفیہ طور پر لکھ کر منزل مقصود پر اپنی غیر خفیہ حالت میں پڑھنے میں ممد و معاون ثابت ہوتی تھی۔ ٹیورنگ نے اپنی ذہانت سے اس خفیہ پیغام کو توڑا اور ایک مشین ایجاد کی جو کہ ایسے تمام خفیہ پیغامات کو توڑکر ان کی اصل شکل میں دکھا سکتی تھی۔ یہ ایجاد چونکہ دفاعی اہمیت کی حامل تھی لہذا اسے نہایت خفیہ رکھا گیا اورعرصہ دراز تک ایلن ٹیورنگ کا کام منظر عام پر نا آسکا۔ کہا جاتا ہے کہ اس نے تن تنہا دوسری جنگ عظیم کو کم از کم دو سال مختصر کرنے میں مدد کی اور لاکھوں جانوں کو ضائع ہونے سے بچایا۔

ٹیورنگ کی مشہور زمانہ مشین یہ دوسری جنگ عظیم کی خفیہ کوڈ حل کرنے والی مشین نہیں بلکہ آپ کو یہ جان کہ حیرت ہوگی کہ ٹیورنگ کی مشین درحقیقت ایک نظریاتی مشین ہے، اس کے لاامتنہای ٹیپ کے تقاضے کی وجہ سے اس کو بنانا ممکن نہیں۔ لیکن ٹیورنگ نے نظریاتی طور پر ثابت کیا کہ ایک عمومی مشین سے مختلف النواع مسائل کو حل کیا جاسکتا ہے۔ یہ مخصوص مشینوں کے دور میں ایک بہت بڑی بات تھی جب عمومی کام کی مشینوں کا کوئ تصور موجود نا تھا۔ اگر ٹیورنگ کے نظریے کو نکال دیں تو اس کا مطلب یہ ہوتا کہ اکاونٹنگ کے لئے ایک طرح کا کمپیوٹر ہوتا اور ورڈ پراسسنگ کے لئے دوسری طرح کا اور ڈیزائننگ کے لئے اور طرح کا۔ وان نیومین آرکیٹیکچر کی طرح ٹیورنگ مشین نے بھی  کمپیوٹنگ کی دنیا میں نہایت بنیادی تبدیلی لاتے ہوے سائنسدانوں کو اس سوچ پر قائل کیا کہ ایک عمومی مشین کا وجود ممکن ہے جو مختلف النواع کے کام کر سکتی ہے۔ یہیں سے پراگرام اور جنرل پرپس کپمیوٹر کی ابتدا ہوتی ہے۔

ٹیورنگ کی مشین دراصل اسٹیٹ مشین کی ایک قسم ہے۔ ایک ایسا نظریاتی کمپیوٹر جس میں لامحدود لمبائی کا ایک ٹیپ ہو، ایک عدد ہیڈ جو کہ دائیں اور بایئں ہل جل کر لکھ پڑھ  سکتا ہو٫ اس کی مدد سے آپ جمع، تفریق اور دیگر ریاضی کے کام، کیلکولس، شماریات، منطقی مسائل غرضیکہ ہر وہ کام جو کہ ‘پراگرام’ ہو سکتا ہو حل کر سکتے ہیں۔ درحقیقت یہ مشین جدید پراگرامنگ یا اس سے پہلے کے پنچ کارڈز کی ایک ابتدائ نظریاتی شکل تھی۔

مصنوعی ذہانت میں بھی ٹیورنگ کا کام نہایت اہمیت کا حامل ہے اور یہ کہنا غلط نا ہوگا کہ کمپیوٹر سائینس کی اس شاخ کی ایجاد کا سہرا ایلن ٹیورنگ کے سر ہی جاتا ہے۔ اس کا بنایا ہوا ٹیورنگ ٹیسٹ آج بھی مصنوعی ذہانت کی معراج مانا جاتا ہے۔ نیز ایلن ٹیورنگ کے نام پر قائم ٹیورنگ انعام جو اس سال جوڈیا پرل کو ملا ہے، کمپیوٹرسائنس کی دنیا کا نوبل انعام سمجھا جاتا ہے۔ ریڈیو لیب کا یہ پاڈکاسٹ ایلن ٹیورنگ کے تعارف کے زمن میں سننے سے تعلق رکھتا ہے۔

Share