عدنان مسعود کی سخن آرایاں۔ دروغ برگردن قاری

تنقید کی موت از قیصر تمکین کا تعارف – حصہ اول

تنقید کی موت محترم قیصر تمکین صاحب کے مضامین کا ایک بیش قیمت مجموعہ ہے جسے راقم کی راے میں اردو نقد و نظر سے سے محبت رکھنے والے ہر قاری کو ضرور پڑھنا چاہیے ۔ صاحب تحریر کی اس کتاب پر نظر اردو کی عالمی کانفرنس کے دوران پڑی اور اس طرح اس نابغہ روزگار شخصیت کی تحریر و تصنیف سے تعارف  ہوا ۔ ان  کے انتقال پرمحترم حیدرآبادی کی یہ تحریر ، مرحوم کی خدمات و حیات کا نہایت عمدہ تذکرہ  ہے۔ قیصر تمکین صاحب کی دیگر کتب میں جنگ ہنسائی،خبرگیر (صحافتی دنیا کی داستان)، سو استکا ، الله کے بندے ، یروشلم یرو شلم ، یاسمین او یاسمین ، ، شعرونظر ، ہماری آواز،واہ، ایک کہانی،گنگا جمنی اور صدی کےموڑپرشامل ہیں۔

 تقریبا ۱۵۰ صفحات کی اس کتاب میں انکے بارہ عدد مضامین شامل ہیں  ۔ گذشتہ دہای کے اردو ادب کے منظر نامے سے آگاہی کے  لیے ان کا مطالعہ بے حد مفید ہے۔ ان میں بیسویں صدی کے رجحانات ، روۓادب،سوۓادب، تنقید کی موت، مغربی ادیب اور ہم، غزل کے امکانات، انہدام نظر، تہذیب عالی کا شوشہ کس لیے؟، ذکرامیر،جوش کی بد قسمتی،قاسمی  صاحب،ایک اعتراف،ایک ہدیہ عقیدت اور مجموعہ کلام یا استفہامیہ  شامل ہیں۔ قیصر تمکین صاحب ایک ہمہ جہت شخصیت تھے اور انکی تنقیدی نگاہ میں، روف پاریکھ صاحب کی طرح مغربی مفکرین کے لیے بھی وہی پیمانے ہیں جن سے وہ اپنے ہم عصر اردو لکھنے والوں کو پرکھتے تھے۔ وسیع المطالعہ تھے، ایک موقع پر لکھتے ہیں “ایلیٹ اور دوستوئیفسکی کا مطالعہ کرنے والے بہت ہی اچھے اور پڑھے لکھے لوگ بھی جیسے یہ مان چکے ہیں کہ وہ کوئی ماوراۓ تنقید نابغہ روزگار ہوں۔ ایلیٹ صاحب بڑے صاحب فکر شاعر اور ادیب و نقاد تھے.ان کی ادبی عظمت کا ہمہ وقت ذکر کرنے والے اردو داں حضرات کے لیےکیا یہ مناسب نہ ہوگا کہ وہ ان حضرت کی مشرقی لندن کے غنڈوں اور نسل پرستوں جیسی زبان سے بھی اپنی واقفیت کا اظہار کریں کہ نسل انسانی ایک بڑے حصّے یہودیوں کو سب ہیومن  نیم وحشی اور  جیو ریٹ قرار دینے کا آفاقی معیار اردو تو کیا مشرق کے کسی بھی ادیب حتیٰ کہ ہندی کے نوفسطائی ادیبوں کے یہاں بھی نہ ملے گا “۔

قیصر صاحب انسانیت کے علمبردار تھے،  مزید فرماتے ہیں

.١٩٣٠ میں حضرت قبلہ ادب جناب ٹی ایس ایلیٹ صاحب نے تحریر فرمایا کہ یہودی تو چوہوں سے بھی گئے گزرے ہیں. ممکن ہے کہ ایسا لکھتے وقت ان کا ذہن نہ پختہ ہو مگر بعد کی عمر میں جب وہ نوبل انعام سے نوازے جا چکے تھے تب تو اپنی اس فسطائیت پر شرمندگی کا اظہار کر سکتے تھے.اپنی نسل پرستی پر مبنی تصنیفات کو رد کر سکتے تھے مگر ہمارے علم میں تو انکا کوئی ایسا جملہ یا تحریر موجود نہیں ہے جس میں اس سامراجی انداز نظر پر اظہار معذرت کیا گیا ہو.

انہوں نے ہمیشہ عمومی رجحانات پر تنقیدی نظر رکھی اور دریا کی روانی میں بہنے کو اپنی شان کے سوا سمجھا ، اسی زمن میں لکھتے ہیں

ہمارے بزرگوں میں جو سارے کے سارے دوسری جنگ عظیم کے کی پیداوار تھے.ایلیٹ کی ایک نظم ‘ویسٹ لینڈ’ کے بڑے چرچے تھے.ہم سمجھے کے اب یہ آکاش وانی ذرا دھیمی ہو گئی ہےاور قرت العینی جذباتی رومانیت(موصوفہ کے ایک ناول کی ابتدا ہی آیات ایلیٹ سا ہوتی ہے )کے زوال کے ساتھ ہی وہ دور “چیونگ گمی”بھی ختم ہو چکا ہے مگر حال ہی میں بی بی سی کی عالمی سروس کے دفاتر وقع بش ہاوس میں بعض ایسے بھی موحققین اردو ملے جوآج بھی ایلیٹ اوردوستوئیفسکی کا اسے طرح حوالہ دیتے ہیں جیسے اسٹوڈنٹس فیڈریشن ۔۔۔کی رکنیت کے زمانے میں کامریڈفلاں اورکامریڈفلاں لینن اور اسٹالین کے حوالہ جات سے ہم کو بہرہ ور فرماتے تھے. بہرحال ہم نے دوران گفتگو کئی باتوں کی طرف اشارہ کیا اوردوستوئیفسکی کی ضمن میں کہا کہ اس کے کرداروں کی فکری نراجیت ذہنی تشنج اور مذہبی عصبیت میں دراصل خود اسکی زندگی کے ایک نمایاں پہلو کی عکاسی ملتی ہے

انہیں بت شکنی بہت عزیز ہے اور وہ کسی بھی ادیب کو تنقید و تبصرے سے بالا نہیں سمجھتے۔ ایلیٹ کے بارے میں لکھتے ہیں

بہت سے لوگوں نے ایلیٹ کے فکرو فن پر تحسین محض ہی نہیں بلکہ منصفی و دیانت کے پہلوؤں سے بھی سوچ بچار کیا لیکن اردو میں جن حضرات نے ٹی ایس ایلیٹ کو پڑھا انہوں نے اسکو فکر و فن اور ادب کا مینارہ روشنی من کر اسکی ہاں میں ہاں ملانا باعث افتخار سمجھا اور اب تو یہ حال ہے کہ اردو کے ادبی حلقوں میں غالباً کوئی ایسا صاحب فکر ہے ہی نہیں جو یہ سوچ سکے کہ ٹی ایس ایلیٹ بھی ایک خاکی انسان تھا.ایک ایسا انسان جس کے بارے میں ام الکتاب کا ارشاد ہے کہ وہ مجموعہ خطا و نسیان ہوتا ہے اور جس کی کہاوتوں کے بارے میں دورائیں بھی ہو سکتی ہیں.

ان کی یہی راے ادب کی عمومی حیثیت اور ہماری غلامانہ ذہنیت پر بھی ہے۔ تنقید کی موت میں انگریزی ادب کے بارے میں لکھتے ہیں

ایک قبل لحاظ امر یہ ہے کہ ہندو پاکستان کی تمام جامعات میں انگریزی ادب خوب دھوم دھام سے پڑھایا جاتا ہے اور اس ادب کو کچھ اس طرح منزہ و طاہر اور ماوراۓ تنقید سمجھا جاتا ہے جیسے کوئی الہامی درجہ رکھتا ہو ہماری جامعات میں مغربی ادب کی خوبیاں ہمہ وقت معرض بحث رہتی ہیں

دانتے کے انفرنو کو مشق ستم بناتے ہوئے بجا طور پر کہتے ہیں

تقریبا ننانوے فیصدی کی حد تک اساتذہ و طلبا دانتے کی جہنم کے ناپاک ترین اور مکروہ ترین حصّوں سے یا تو ناواقف رہتے ہیں یا دیدہ دانستہ نا واقف رہنا مناسب سمجھتے ہیں.اطالوی ادب سے براہ راست واقفیت کے باوجود عزیز احمد جیسے صاحب شعور ادیب نے بھی دانتے کی صرف خوبیاں ہی گنائیں.انہو نے اسکے ذاتی تعصبات کا ذکر نہ کیا جنت کے آخری اور اعلیٰ ترین حصہ پر پہنچ کر شاعر نے جب بیانرچے کو دیکھا توکیا سوال کیا؟اس سوال کی توضیح و تشریح کلیسائی ادب نے کن کن پہلوؤں سے کی ہے؟کیا یہ فرض کرنا واقعی جائز بھی ہو سکتا ہے کہ عزیز احمد جیسا صاحب علم و شعور ان تشریحات سے بے خبر تھا!

وہ مغربی ادب کے مخالف نہیں لیکن وہ چاہتے ہیں کہ اس کو پڑھنے والے مغربی ادب و فکر سے آگہی حاصل کریں نا کہ اسے کوی مقدس صحیفہ گردانا شروع کردیں۔ اس زمن میں کہتے ہیں

مغربی ادب و فکر سے متاثر ہونے والے زیادہ تر ایسے اصحاب ہوتے تھے جن کا مقصد پیروی مغرب نہیں بلکه مغربی ادب و فکر سے آگہی حاصل کرنا ہوتا تھا.بہت سے حضرات اس لیے مغرب کا مطالعہ کرتے تھے کہ اس سے متاثر ہو کر اسکے مثبت و جاندار پہلوؤں سے متمتع ہو کر اپنے ادب میں بھی نئی نئی راہیں نکالیں.یہ جذبہ کسی طرح بھی قابل اعتراض نہیں ٹھرایا جا سکتا ہے مگر پھر بھی یہی حضرات صرف مغرب ہی میں پھنس کر کیوں رہ جاتے ہیں اور اپنے شعور و فکر سے کام لے کر مغربی افکار کے منفی و گمراہ کن رجحانات پر نظر کیوں نہیں ڈالتے؟

جاری ہے۔

Share

قرارداد سال نو – ۵۲ ہفتوں میں ۵۲ کتابیں

تو جناب قصہ کچھ یوں ہے کہ ۵۲ ہفتوں میں ۵۲ کتابوں کی تحریک سے متاثر ہوکر ہم نے بھی اپنے نئے سال کی قراردادوں میں یہ بات شامل کی کہ ہر ہفتے ایک عدد کتاب ختم کی جائے۔ ان کتابوں کا انتخاب مشکل امر ٹہرا۔ اس سلسلے میں ہم نے مختلف بہترین کتب کی فہرستوں، اپنے کتب خانے، ذاتی پسند، دوستوں اور دیگر زرائع سے مدد لی اور کتب کی مندرجہ زیل فہرست مرتب کی ہے۔ ان میں سے کچھ کتابیں پہلے پڑھ چکا ہوں لیکن دوبارہ پڑھنے کی خواہش ہے۔ سپر فریکنامکس ختم کر کر اب مبارک حیدر صاحب کی کتاب شروع کر دی ہے لہذا متعین اہداف کا حصول ابھی تک تو بفضل تعالی زیادہ مشکل نہیں لگ رہا۔ آگے آگے دیکھیے ہوتا ہے کیا۔
نصابی کتابوں، بلاگز، تکنیکی کتب، پاڈ کاسٹوں وغیرہ کے درمیان اچھی نان فکشن و فکشن کو پڑھنے کا موقع نہیں ملتا۔ ۵۲ ہفتوں کا یہ نظم اسی بات کی کوشش ہے کہ ہدف متعین کر کر اگر کام جائے تو کامیابی کا امکان زیادہ ہے۔ مندرجہ ذیل فہرست حتمی نہیں لہذا اس کے بارے میں اپنی رائے سے آگاہ کریں اور اگر آپ کی سفارشی کتاب زیادہ اچھی ہوئی تو اس کو اس فہرست میں شامل کیا جاسکتا ہے۔
:)

Week

Title

Author

1/1/2012

تنقید کی موت

Qaiser Tamkeen

1/8/2012

Case of Exploding Mangoes

Mohammad Hanif

1/15/2012

Superfreaknomics

 Steven D. Levitt and
Stephen J. Dubner

1/22/2012

مغالطے، مبالغے

Mubarak Haider

1/29/2012

Ender’s Game

Orson Scott Card

2/5/2012

Pragmatic thinking and
learning

Andrew Hunt

2/12/2012

فصوص الحکم

Ibn-Al-Arabi

2/19/2012

A History of God: The 4,000-Year
Quest of Judaism, Christianity and Islam

Karen Armstrong

2/26/2012

And then there were none

Agatha Christie

3/4/2012

Our Lady of Alice Bhatti

Mohammad Hanif

3/11/2012

The Selfish Gene

Richard Dawkins

3/18/2012

Torah – Old Testament

3/25/2012

Lord of the flies

William Golding

4/1/2012

دنیا کی سو عظیم کتابیں

Sattar Tahir

4/8/2012

Think and Grow Rich

Napoleon Hill

4/15/2012

The Catcher in the Rye

J. D. Salinger

4/22/2012

New Testament

4/29/2012

No god but God: The Origins,
Evolution, and Future of Islam

Reza Aslan

5/6/2012

کلیات عصمت چغتای

Ismat Chugtai

5/13/2012

The Clash of Fundamentalisms:
Crusades, Jihads and Modernity

Tariq Ali

5/20/2012


تهافت التهافت: نقض كتاب الإمام الغزالي المسمى “تهافت الفلاسفة”. من أشهر كتبه

Ibn-e-Rushd

5/27/2012

شہاب نامہ

Qudratullah Shahab

6/3/2012

The Hunger Games

Suzanne Collins

6/10/2012

Anna Karenina

Leo Tolstoy

6/17/2012

بوستان سعدی

Sa’di

6/24/2012

Lolita

Vladimir Nabokov

7/1/2012

مجموعہ مشتاق احمد یوسفی

Mushtaq Ahmed Yusfi

7/8/2012

The Brothers Karamazov

Fyodor Dostoyevsky

7/15/2012

Tafheem-ul-Quran 1

Syed Abul Ala Maududi

7/22/2012

Tafheem-ul-Quran 2

Syed Abul Ala Maududi

7/29/2012

Tafheem-ul-Quran 3

Syed Abul Ala Maududi

8/5/2012

Tafheem-ul-Quran 4

Syed Abul Ala Maududi

8/12/2012

Tafheem-ul-Quran 5

Syed Abul Ala Maududi

8/19/2012

Tafheem-ul-Quran 6

Syed Abul Ala Maududi

8/26/2012

The Castle

Franz Kafka

9/2/2012

On Intelligence

Jeff Hawkins

9/9/2012

The Adventures of Huckleberry
Finn

Mark Twain

9/16/2012

اسلامی ریاست

Dr. Hameedullah

9/23/2012

The Stand

Stephen King

9/30/2012

Angela’s Ashes

Frank McCourt

10/7/2012

Catch-22

Joseph Heller

10/14/2012

Madame Bovary

Gustave Flaubert

10/21/2012

The Diary of Anne Frank

Anne Frank

10/28/2012

The Stories of Anton
Chekhov

Anton Chekhov

11/4/2012

Das Capital

Karl Marx

11/11/2012

The Great Gatsby

F. Scott Fitzgerald

11/18/2012

Love in the Time of
Cholera

Gabriel Garcia Marquez

11/25/2012

The Picture of Dorian
Gray

Oscar Wilde

12/2/2012

A tale of two cities

Charles Dickens

12/9/2012

Linchpin

Seth Godin

12/16/2012

جنٹلمین بسم اللہ

Ashfaq Hussain

12/23/2012

The Art of War

Sun Tzu

 

Share

سوپا کا سیاپا

جیت گیا انٹرنیٹ، اور ہار گیا سوپا کا کالا قانون۔

اچھی خبر ہے کہ ذرائع ابلاغ کی طاقنتور لابی کے سامنےایک عام آدمی اور انٹرنیٹ کی آزاد معیشیت کی جیت ہوئ یا ہمیں ایسا لگا کیونکہ کنسپریسی تھیورسٹ تو اس میں بھی اپنی ہی چت اور اپنی ہی پٹ کا قانون ضرور لاگو کریں گے۔

سوپا کا قانون کیا تھا، مختصرا سوپا اور پیپا دونوں بظاہر تو آنلاین پایریسی  کے خلاف بنائے ہوئے قوانین ہیں لیکن ان کی پہنچ عمومی شہری آزادیوں تک ہوتی ہے، اسکے علاوہ ان انٹرنیٹ کمپنیوں کو جو لوگوں کا مہیا کیا ہوا مواد آنلاین رکھتی ہیں ان کو بھی کسی چوری کیے مواد کے شائع ہونے پر پابندی کا سامنا کرنا پڑتا۔ اسی وجہ سے ریڈیٹ، وکیپیڈیا، یوٹیوب، گوگل، وایرڈ وغیرہ نے اسکے خلاف سخت مہم چلائ اور بایکاٹ کیا۔

 ذرائع ابلاغ اور مواد کی فراہمی کے ادارے یا  ’ کنٹنٹ پروایڈر’ ضرور سوپا ۲۔۰ کی کوشش کریں گے، پر دیکھتے ہیں زور کتنا بازو قاتل میں ہے۔

Share

مذہب کے نام پر قتل و غارت گری

تمثیلی منطق ،خیالی ڈیٹا اور مذہبی تعصبات کی مستعارانہ فکر سےلبریز افراد اکثر یہ دعوی کرتے دکھائ دیتے ہیں کہ دنیا کی تاریخ میں  مذہب کے نام پر سب سے زیادہ قتل و غارت گری ہوئی ہے۔ اس بے بنیاد و بے اصل دعوے پر سر پیٹنے کو دل چاہتا ہے، اپنا نہیں بلکہ دعوی کرنے والے کا لیکن یہ سوچ کر ٹہر جاتے ہیں کہ کہیں یہ مذہب کے نام پر تشدد کے زمرے میں نا آجاے۔ حسرت کی طرح ادعا اتقا وفتح عقلی کے باوجود مذہب کے خلاف تعصب کی عینک اتار کر حقائق کو  مدنظر رکھا جائے اور تاریخ میں الحاد و سیکیولرانہ حکومتوں اور اقوام کے حالات ذندگی پڑھ لئے جائیں تو یہ غلط فہمی باآسانی دور ہو سکتی ہے۔

دوسری جنگ عظیم کے دوران جرمنوں کے ہاتھوں لاکھوں رومانوی جپسیوں، روسیوں اور یہودیوں کا قتل ہوتا ہے،بعد ازاں رد عمل میں یورپی ممالک سے بارہ ملین جرمنوں کا انقلا اور اس بالجبر ہجرت میں پانچ لاکھ افراد کی موت ہوتی ہے، اسٹالن کی کی زیر سرپرستی ایک کروڑ سے زائد افراد عظیم اشتراکیت کی مصنوعی غذائ قلت، قحط  اور قید و بند میں مارے جاتے ہیں۔ ماو کے سنہرے دور میں لاکھوں لوگوں کو عوامی عدالتوں میں برسر عام .انقلابی. سزائیں سنا کر دار و رسن سے نوازاجاتا ہیے، پوٹ پال کی حکومت میں کم و بیش بیس لاکھ کمبوڈین افراد کو موت کے گھاٹ اتار دیا جاتا ہے۔ تہذیب یافتہ یورپی اقوام جب اپنے تہذیبی ورثے کو شمالی  و جنوبی امریکہ برامد کرتے ہیں تو مختلف اندازوں کے مطابق بیس لاکھ سے ایک کروڑ کے لگ بھگ مقامی لوگوں کا صفایا ہوجاتا ہے کہ یہ تو دنیا کا  دستور ٹھرا۔ روانڈا کے قتل عام سے لے کر آشوتز کے گیسی کمروں کی نسل کشی تک اورہیروشیما و ناگاساکی و روس کے قفقاذی حملوں سے لے کر منگولوں و تاتاریوں کی وحشت تک، انسانی ظلم و ستم کی داستاں بہت طویل و غمگین ہے۔ رنگ و نسل کی برتری، قومیت پرستی، اور زیادہ طاقت کی خواہش نے ہمیشہ انسان کو انسان کا خون بہانے پر اکسایا لیکن تاریخ سےتھوڑی سی بھی آگاہی رکھنے والا شخص یہ جانتا ہے کہ ان میں سے کسی بھی مبارزت کو مذہب کے گلےباندھنا تحقیقی و علمی طور پر ناانصافی کی بات ہوگی۔ نام نہاد روشن خیال، سیکولر، تہذیب یافتہ و لبرل اقوام نے انسانیت پر جس طرح کے ظلم و ستم ڈھائے ہیں ان سے چشم پوشی کرنا تو شائد مذہب بیزاروں کی روائت ٹھری ہے۔ دو سو سال کی صلیبی جنگوں کے دس سے تیس لاکھ مقتولین پانچ سالہ جنگ عظیم کے چار سے ساڑھے سات کروڑ کشتگان کے برابر ٹھرتے ہیں، نا جانے ان کا ڈیٹا کس متوازی کائنات سے آتا ہے؟

حوالہ جات

The Great Big Book of Horrible Things: The Definitive Chronicle of History’s 100 Worst Atrocities

 List of Wars and Anthropogenic Disasters by Death Toll

Share

گواہرِاسپاٹیفائی

اسپاٹیفائی کی سروس حال ہی میں استعمال کرنا شروع کی جس کی بنیادی وجہ اس پر بڑے پیمانے پر موجود اردو، فارسی اور عربی زبان کے مجموعات ہیں۔ اس سروس کی اچھی بات یہ ہے کہ آپ مختلف ڈوائسز پر پلے لسٹ بنا کر اسے آف لائن سن سکتے ہیں۔ اسپاٹیفائی پر ہمیں ضیا محی الدین کی آواز میں بڑی تعداد میں مختلف صوتی مجموعات ملے جن سے اس سے قبل واقفیت نا تھی۔ اس سے نثر و نظم کے بہت سے گواہر سے  آگاہی نصیب ہوئی۔ کچھ چیدہ چیدہ مجموعات کے پتے درج زیل ہیں۔

فیض صاحب کی محبت میں

خطوط غالب مجموعہ اول

خطوط غالب مجموعہ دوم

خطوط غالب مجموعہ سوم

  ضیا محی الدین کے ساتھ ایک شام پانچ متفرق حصے

Share

اے کیس آف ایکسپلوڈنگ مینگوز از محمد حنیف کا مختصر تعارف

کل شب کافی عرصے بعد انگریزی کی ایک نان فکشن کتاب کے دو سو کے قریب صفحات ایک نشست میں ختم کیے، باقی اس سے قبل پورے ہفتےمیں مختلف مواقع میں پڑھ چکا تھا، غالبا اس سے پہلے لایف آف پای ہی ایسی نان فکشن کتاب تھی جس کے انداز بیاں نے توجہ کو اس قدر مرکوز رکھا اور صفحہ در صفحہ کس طرح گذرا پتا نہیں چلا۔ راشد بھای سے یہ کتاب کچھ ماہ پہلے مستعار لی تھی، شروع کی لیکن دو ابواب کے بعد کچھ سفر کی مصروفیتوں کی بنا پر ختم نا کر سکا۔ اب دوبارہ اٹھای تو سوچا کہ ختم کر کے ہی چھوڑوں گا۔ محمد حنیف کی اے کیس آف ایکسپلوڈنگ مینگوز اپنے متنازع موضوع اور معترضانہ مواد کے باوجود یا شاید اسی وجہ سے ایک دلچسپ ناول ہے جو ۸۰ کی دہائ کی پاکستانی سیاست، فوج اور دور آمریت کے سماجی رجحانات پر ایک طنزیہ و تمسخرانہ نظر ڈالتا ہے۔

دو ہزار نو میں شائع ہونے والے اس ناول ’اے کیس آف ایکسپلوڈنگ مینگوز‘ کے مصنف، ڈرامہ نگار اور صحافی محمد حنیف کو کامن ویلتھ رائٹرز کا انعام مل چکا ہے اور اگر وہ اپنی اسی طرح کی صف شکن تحاریر لکھتے رہے تو مین بکر پرایز کی لانگ لسٹ سے شارٹ لسٹ ہونے میں کچھ زیادہ وقت نا لگے گا۔ اس ناول کا مرکزی خیال آمریت اور اس کے خمیر سے اٹھنے ہونے والی وہ مضحکہ خیزعبودیت و اضطرار کی ملی جلی کیفیت ہے جو انسانی دماغ میں فوج کے حکومتی نظام سے پروان چڑھتی ہوتی ہے۔ راقم کا اپنا تجربہ ہے کہ جب سانحہ بہاولپور ہوا تو سن آٹھ برس کا تھا لیکن اس عمر میں بھی یہ خیال کہ ضیا الحق کے علاوہ کوئی اور بھی صدر مملکت ہو سکتا ہے ایک نہایت  عجیب و ناممکن بات لگتی تھی۔ غیرجماعتی انتخابات کے اعلان پر بھی ہم بڑے عرصے تک اسی وجہ سے خفا رہے رہے کہ ہماری دانست میں یہ وہ انتخابات تھے جن میں جماعت اسلامی کے سوا سب جماعتوں کو حصہ لینے کی آزادی تھی۔ اس سے آپ ہماری سیاسی بالیدگی کا اندازہ لگا سکتے ہیں لیکن یہ تو جملہ ہاے معترضہ ہیں، چلیے تبصرے کی جانب۔

محمد حنیف کے پڑھنے والے جانتے ہیں کہ ان کے نزدیک کوئی چیز بھی تنقید و تمسخر سے ماورا نہیں۔ دی کیس آف ایکسپلوڈنگ مینگوز میں بھی یہی سب وشتم بدرجہ اتم موجود ہے۔ جنرل ضیا کی آنکھوں سے لیکرانکے غدودان معدہ تک،پاکستان کی اسلامایزشن کا الزام ہو یا جرنیلوں کی میٹنگ، بیگم شفیق جہاں ضیا الحق کا بیڈروم ہو یا حدود آرڈینینس کی شرائط، ان کا خامہ بے محابہ ایک شتر بے مہارکی طرح تمام حدود قیود سے آزاد اپنے مناظر اور کردار قرطاس پر بکھیرتا چلا جاتا ہے۔ حنیف صاحب کے کردار یک جہتی اور مناظر پر انکی گرفت قوی ہے۔اپنے کرداروں کے پس منظر سے پیش منظر تک کا تعارف وہ اسطرح کرواتے ہیں کہ ایک تشنگی سی باقی رہتی ہے اور یہی اسرار کا باعث بنتی ہے۔ ان کے کرداروں کا کینوس خاصہ بڑا ہے لیکن وہ سب کے ساتھ انصاف کرتے نظر آتے ہیں۔ امریکی سفیرآرنلڈ رافیل، سی آی اے کے چارلس کوگن، اسلم بیگ، بن لادن، کیانی، برگیڈیر ٹی ایم، جنرل اختر عبدالرحمان پر مبنی کردار ہوں یا بے بی او اور علی شگری کے فسانوی کردار، انکا قلم چابکدستی سے ان زندگیوں اور واقعات کو اس طرح سے جوڑتا ہے کہ قاری عش عش کر اٹھتا ہے۔

محمد حنیف نے خود تو اس کتاب کو ایک انٹرویو میں فکشن قرار دیا تھا لیکن بیشتر کیچ ٹوینٹی ٹو اور جارج آرویل کی طرز کے ‘فکشنات’ کی طرح انہوں نے اپنی کہانی کے تانے بانے حقیقی واقعات سے کچھ اس طرح جوڑے ہیں کہ پڑھنے والا حقیقیت و فسانے کے درمیان ایک خلا میں معلق رہتا ہے اور آہستہ آہستہ فسانہ فسانہ نہیں رہتابلکہ حقیقت کا روپ دھار لیتا ہے۔محمد حنیف کے افکارونظریات سے اختلاف تو بلکل ہوسکتا ہے لیکن ان کی ندرت خیال کی تعریف نا کرنا ناانصافی ہوگی۔ اندھی زینب کی بددعاوں سے لے کر کوے کی غیر قانونی پرواز ، شاہی قلعے کے سیکرٹری جنرل قیدی اور حرم کے قاضی کو کی جانے والی فون کال تک ان کے قلم کا نشتر ایسے زخم ادھیڑتا ہے کہ جو پاکستانی سیاسی و سماجی تناظر میں شجر ممنوعہ کی حیثیت رکھتے ہیں۔ میں اس ناول کی کہانی نہیں بیان کروں گا، بس اتنا کہتا چلوں گا کہ بقول مصنف انکا پہلا ناول ایک سیاسی تھرلر ہے اور یہ بات صد فیصد درست ہے۔

نازک طبع لوگوں کے لیے لیکن انتباہ ہے، غالب گمان ہمارا یہ ہے کہ یہ کتاب اور اس میں استعمال کی گی زبان و استعارات و مضامین طبعیت پر گراں گذرے گی۔ فحاشی کی تعریف میں تفرق ہو سکتا ہے لیکن مشتزنی سے لواطت اور راشد بھای کے الفاظ میں اعضاے بقاے نسل انسانی بلا شمار مستعمل ہیں لہذا احتیاط لازم اور جس کو ہو جان و دل عزیز اسکی گلی میں جاے کیوں۔

بی بی سی کی خبر ہے کہ اپنے پہلے ناول پر پیدا ہونے والے ردِ عمل کے بارے میں محمد حنیف نے بتایا تھا کہ ’اور کسی نے تو کوئی خاص ردِ عمل ظاہر نہیں کیا لیکن ایک صاحب نے انہیں مرکزی کردار (جنرل ضیا) کے بیٹے کا یہ پیغام پہنچایا کے ’میرے والد زندہ ہوتے تو پھر میں دیکھتا کہ وہ (حنیف) یہ ناول کیسے لکھتا‘۔
اس تبصرے کے اختتام حنیف صاحب کے کردار کورپورل لسارڈ کا یہ تاریخی جملہ نقل کرتا چلوں جو اس نے صوبیدار میجر کے اس استفسار پرکہ “یہ جو ہاٹ ڈاگ تم ہمارے لیے اتنے چاو سے لاے ہو، وہ حلال ہے کہ نہیں” کہا تھا،

it is a piece of f******* meat in a piece of f******* bread. If we can’t agree on that, what the hell am I doing here?”

اب محمد حنیف کی اگلی کتاب، آور لیڈی آف ایلس بھٹی کو پڑھنا ہے۔ اب یہاں معاملہ اس بار کچھ یوں ہے کہ کتاب ہماری ہے اور قبضہ راشد بھائی کا ہے۔ دیکھیں وہ کب عنایت کرتے ہیں۔

Share

دیسی لبرل کا المیہ – ایک خط

برادرم ابوعزام
آداب و تسلیمات

امید ہے مزاج بخیر ہونگے۔ آج سوچا کہ کچھ حال دل لکھوں، کچھ فگار انگلیوں کی بات ہو اور کچھ خامہ خونچکاں کی۔ آج سہ پہر سے وہ کیفیت وارد ہےجس پر علامہ نے خوب فرمایا

!یقیں مثلِ خلیلؑ آتش نشینی
!یقیں اللہ مستی، خود گزینی
سُن اے تہذیبِ حاضر کے گرفتار
!غلامی سے بتر ہے بے یقینی

بس بھائی، تو مدعا و المیہ ہمارا یہی ٹھرا کہ تشکیک و ارتیاب کے بحران میں گرفتار، ہم گروہ اذھان ناپختہ کار ہیں۔ حق ہدایت نصیب کرے ورنہ تعقل پراگندہ اور افکار مغرب کی کاسہ لیسی سے عبارت۔ ایک بنیادی منطقی مغالطے کا شکار کہ جس کو لسانا دین کہتے ہیں اس کے قواعد و ضوابط، اس کے رب کی ربوبیت اور شارع کی حتمیت پر آمنا و صدقنا نہیں کہتے، اتنی اخلاقی جرات بھی نہیں پاتے کہ صاف علیہدہ ہوکر من الحیث الطالب وجود خداوندی کی دلیل طلب کریں اور رسول کی صداقت کو درایت کی کسوٹی پر پرکھنے کی سعی کریں۔ خدا لگتی کہیں تو چڑھتے سورج کی پرستش سے یہ عادت بھی واثق ہوئی کہ جیسے ستر کی دہائی میں اسٹالن کے اساطیر گنجہائے گرانمایہ معلوم ہوتے تھے، آج تعقل مستعار کے اس غلامانہ خلا کو مغربی الحادانہ افکار و زندقہ نے پر کیا ہے۔

علم حقیقی و معلومات میں باعث تفرق کیا ہے، اس کے ادراک سے بے بہرہ ہونے کے سبب ہمیشہ علوم دینیہ کو “دیر از این ایپ فار دیٹ” کے انداز فکر سے پرکھا، قران میں تلاش ممکن ہوئی تو جس مصحف کو برسوں نا چھوا تھا بیٹھے بٹھائےاس کے عالم بن گئے اور جب صحیین کی “ایپ” ملی تو شیخ الحدیث کا مرتبہ پایا۔ مغربی دانشکدوں کی افادیت سے تو مفر ممکن نہیں لیکن چونکہ کسی خردمند کا بالاستیعاب مطالعہ شامل نہ تھا لہذا تفکر کے منڈلاتے سائے، ضیا حرم نا پا کر آسیب ِالحاد میں تبدیل ہو چلے۔

تراکیب ترکی و تیزی سے ناآشنا ہم خود کو البیرونی و ابن الرشد و ابن عربی کے رشحات فکر کا تسلسل گردانتے ہیں لیکن تم سے حقیقت حال کیا چھپانا، ہماری محدود صلاحیت ہنر تو بس اینگلز و ڈاکنس کی سوچ کا پرتو ہے۔ ویسے بھی ماحول کچھ ایسا سازگار ہے کہ فی زمانہ “انٹیلیکچول” ہونے کے لئے منکر شریعت و شرافت ہونا ایک امر لازم ٹھرا۔ گویا کہ افکار میں بائیں جانب جھکاو اور افعال پر از معائب نا ہوں تو ذہنی استدراک کے مدارج کو انڈر گریجویٹ ہی گردانا جاتا ہے۔ اگر “آرگنائزڈ ریلیجن” کے ذکر پر لال رومال دیکھنے والے بیل کی طرح نا ڈکرائیں تو ٹوئٹر مفکرین آئی کیو سو سے نیچے ہونے کا گمان کرتے ہیں۔

بہرطور، یہ تو کچھ بیان حال دل تھا، کھول کر تمہارے سامنے رکھ دیا۔ لیکن میاں خیال رکھنا، ہم تو یہ کہے دیتے ہیں لیکن اگر تم سے زرا بھی کوئی پندونصائح وارد ہوئے تو چرب زبانی و بذلہ سنجی و لطیفہ گوئی کی آڑ میں تمہاری وہ ہنسی اڑائیں گے کہ تمہیں ہماری حکائت زباں کے پیچھےچھپنے کی زرا بھی جگہ بھی نا ملے گئ۔ اور اگر زیادہ مدلل ہوئے تو غیر عرفی سوچ و معترضانہ تفکر کے قتل کا ذمہ دار قرار دے کر وہ مجلس عزا گرم کریں کہ بھاگتے ہی بنے گی۔ زرا آزما کر تو دیکھو۔

دعاوں کا طلبگار
ایک دیسی لبرل

Share

!چین کی ترقی

 قیصر تمکین صاحب کی کتاب تنقید کی موت میں منصورہ احمد کی مندرجہ ذیل مختصر نظم ایک استفہامیے کے طور پر موجود ہے۔

!مرے مالک
تجھے تو علم ہی ہوگا
جو بچپن سے بڑھاپے میں چلے جاتے ہیں
ان سب کی جوانی کون جیتا ہے؟

 مجھ سے اکثر احباب اس بات پر نالاں رہتے ہیں کہ میں چین کی ترقی اور اس کی عظمت کی داستانوں کو درخوراعتنا نہیں گردانتا، نا ہی مجھے اس “ابھرتی ہوئی نئی عالمی طاقت” کی  بڑائی سے کوئی خاص دلچسپی ہے۔ میں اسے ۸۰ کی دہائی کی جاپانی  ترقی کی ناپائدارگی پر محمول کرتے ہوئے اکثر یہ سوال کرتا ہوں کہ جب ترقی مشرق کے رطب اللسان مجھے  سرزمین الصین کی تازہ ترین ایجاد کا نام بتائیں گے  تو میں اس موضوع پر مزید گفتگو کرنے کے لئے تیار ہوں۔ اپ شائد اسے کج بحثی خیال کریں لیکن معاشی ناہمواریوں کے جس ابتذال  میں اہل چین نے ایک ناپائدار ترقی کی بنیادیں کھڑی کی ہیں، ان کی انسانی قیمت اسقدر بلند ہے کہ اس کا اجمالی تذکرہ بھی گلوبلائزیشن کے بڑے سے بڑے حامی کے رونگٹے کھڑے   کرنے کے لئے کافی ہے۔ شرط یہ ہے کہ وہ استعمارکا جبہ اتار کر انسانیت کا لبادہ اوڑھے اور خاکی پیراہن سے منطقی خطوط پر جی ڈی پی کی ناہمواریوں، یوان کے غیر فطری ٹھراو،  برامدات کے بسیار، معاشی ترقی کا کمیونسٹ پارٹی کی “ازاد منش، انسان دوست، مزدور دوست” پالیسیوں سے تعلق استوار کرے۔

 مسٹر ڈیزی کے ساتھ زرا شینجوان کا چکر لگائیں اور  دیکھیں کہ ترقی کس چڑیا کا نام ہے۔

 

Share

حرم کا تحفہ

زندگی انساں کی اک دم کے سوا کچھ بھی نہیں

دم ہوا کی موج ہے، رم کے سوا کچھ بھی نہیں

گل تبسم کہہ رہا تھا زندگانی کو مگر

شمع بولی، گریۂ غم کے سوا کچھ بھی نہیں

راز ہستی راز ہے جب تک کوئی محرم نہ ہو

کھل گیا جس دم تو محرم کے سوا کچھ بھی نہیں

زائران کعبہ سے اقبال یہ پوچھے کوئی

کیا حرم کا تحفہ زمزم کے سوا کچھ بھی نہیں

 بانگ درا 

Share

عصری ادب اور سماجی رجحانات از ڈاکٹر روف پاریکھ کا تعارف

پچھلے ماہ کراچی ارٹس کونسل میں اردو کی عالمی کانفرنس میں ماہر لسانیات اور اردو لغت بورڈ کے سربراہ ڈاکٹر روف پاریکھ کو پہلی مرتبہ سننے کا اتفاق ہوا۔ موصوف کا مقالہ غالب کی اردو لغت پر تھا جس میں ان کا مدلل و پر مغزانداز تحریر نمایاں نظراتا تھا۔ تقریرنہایت ہی عمدگی سے کی جس میں کوئی بات بھرتی کی نا تھی، نہایت قابل ادمی ہیں اور قحط الرجال کے اس دور میں جہاں عمومی طور پر رسائل و جرائد میں سرقے کا رواج اور تحقیق کا فقدان ہے، امید کی اخری کرنوں میں سے ایک کرن۔ کانفرنس کے بعد حسب عادت ہم جیب ہلکی کرنے باہر موجود کتابوں کے اسٹالز پر جا پہنچے تو وہاں روف پاریکھ صاحب کی کتاب عصری ادب اور سماجی رجحانات نہائت مناسب داموں میسر تھی،فورا خریدی اور ایک ہی نشست میں ختم بھی کرلی، اسی کا تعارف درج زیل ہے۔

اکادمی بازیافت کی شائع کردہ تقریبا دو سو صفحات کی یہ کتاب عصری ادب اور سماجی رجحانات، ڈاکٹر صاحب کے مختلف کتابوں پر کئے گئے تبصرہ جات کا مجموعہ ہے، یعنی کتاب برائے کتابیات یا میٹا بک۔ اس میں تقریبا تیس کے قریب مختلف النوع کتب پر تبصرے شامل ہیں لیکن یہ محظ تبصرے نہیں بلکہ اردو لغت، الفاظ کے چناو، فن تحریر، موجودہ ادبی و ثقافتی رجحانات، سماجی عناصر اور دیگر ادبی عوامل پر سیر حاصل مباحث کا نادر مجموعہ ہے۔ اس کے چیدہ چیدہ مضامین میں اردو میں عربی الفاظ کا تلفظ ایک جائزہ، الفاظ کی سرگزشت، محمد حسین ازاد کا کتب خانہ، عورت اور اردو زبان ایک جائزہ، مجید لاہوری کی حرف و حکایت ایک جائزہ، زکر راجا بھوج اورمولوئ مدن کا اور عنائتیں کیا کیا شامل ہیں۔

عام ناقدین کی طرح ڈاکٹر صاحب تعریف میں بخل سے کام نہیں لیتے لیکن انکی تنقید کا نشتر بھی کسی مصلحت کا قائل نہیں، وہ موجودہ دور کی سریع التحریر پیڈ پبلشنگ کی روش سے سخت نالاں ہیں اور اپنی تحاریر میں اس کا برملا اظہار کرتے ہیں۔ مثلا موصوف نامی ایک کتاب کے بارے میں کہتے ہیں

“موصوفہ”کی تحریر سے اندازہ ہوتا ہے کہ وہ مشتاق احمد یوسفی سے متاثر ہیں (لیکن اس طرح نہیں جس طرح یونس بٹ یوسفی سے متاثر ہیں.کیوں کہ اب تو یوسفی صاحب یونس بٹ سے متاثر ہو گئے ہیں یعنی بلکل اس طرح جیسے مظلوم عوام سیلاب سے متاثر ہوتے ہیں)مگر اس متاثر ہونے کے باوجود موصوفہ نے یوسفی صاحب سے کوئی سبق نہیں سیکھا. یوسفی صاحب آج اردو کے عظیم ترین مزاح نگاروں میں شمار ہوتے ہیں تو اس کی ایک وجہ یہ بھی ہے کہ وہ ہر لفظ سوچ سوچ کر اور سطر تول تول کر لکھتے ہیں.بلکہ لکھنے سے پہلے سو بار مٹاتے ہیں اور غالباً اسی لیے پنسل سے لکھتے ہیں کے مٹانا تو پڑے گا ہی.”آب گم “کے دیباچے میں خود ایک جگہ لکھا ہے کہ”خاکے اور مضامین لندن میں بڑی تیز قلمی سے لکھ ڈالے اور حسب عادت پال میں لگا دیے کے ڈیڑھ دو سال بعد نکل کر دیکھیں گے کہ کچھ دم ہے بھی”. اس میں”حسب عادت “کے الفاظ غور طلب ہیں.جو شخص اتنا تردد کرے اسے بڑا نثرنگار تو بننا ہی ہے.لیکن رفعت ہمایوں صاحبہ کو شاید مصنفہ بننے کی جلدی تھی لہٰذا مضامین کو پال میں لگا نے کی بجاۓ کچے ہی دستر خوان پر سجا دیے کہ قاری جانے اور اس کا ہاضمہ!

مندرجہ بالا پیراگراف جامع طریقے سے ایک پریشان کن رجحان کی طرف توجہ دلائی گئی ہے جسے استاد جعفر نے اپنے تازہ مضامین میں یہاں اور یہاں بڑی خوبصورتی سے نشتر خامہ کا نشانہ بنایا ہے۔ڈاکٹر صاحب کو الفاظ سے بڑی محبت ہے۔ الفاظ کی سرگزشت نامی مضمون میں لکھتے ہیں

اس پر ہمیں خیال آیا کہ ہر زبان میں کچھ ایسے الفاظ ہوتے ہیں جو اس خطّے کے تہذیب و تمدن اور معاشرتی تصورات کو آشکارا کرتے ہیں.غیر قوم یا دوسرے کلچر کے لوگ ان کے لئے کوئی لفظ یا کوئی مترادف اپنے ہاں نہیں رکھتے اور اگر کوئی لفظ ہوتا بھی ہے تو اس مفہوم کو صحیح طور پر ادا نہیں کرتا.مَثَلاً فرانسیسی اور جرمن زبان میں بعض تہذیبی تصورات کے لئے جو لفظ ملتے ہیں ان کا ٹھیک ٹھیک انگریزی مترادف دستیاب نہیں ہوتا اور ان کی وضاحت میں ایک دو سطریں لکھنی پڑتی ہیں.اس کی وجہ یہ ہے کہ لفظ محض لفظ نہیں ہوتے بلکہ”تصورات”اور”خیالات”ہوتے ہیں اسکی مثال کے طور پا پر لفظ”عصمت”کو لے لیں،ہمارے ہاں عصمت و عفت کا جو تصور ہے وو مغربی تہذیب میں ناپید ہے.یہی وجہ ہے کہ انگریزی میں اس مفہوم کی ادائیگی کے لئے جو لفظ ملتے ہیں(مَثَلاً,purity,modesty chastity,integrity وغیرہ)وہ اسکے اصل مفہوم کو اور عصمت کے تصور کو صحیح معنوں میں ادا کرنے سے قاصر ہیں.کچھ یہی کیفیت ہماری اشیاۓ خوردو نوش اور رسم و رواج کی ہیں.مَثَلاً پان کو لیجئے،اسکے لوازمات ،خصوصیات اور اہمیت پر انگریزی میں ایک مضمون لکھ ڈالیے، لیکن جس انگریز نے زندگی بھر پان نہیں کھایا وہ خاک بھی نہیں سمجھے گا کہ پان ہوتا کیا ہے.ہاں اسے ایک عدد گلوری، سونف خوشبو اور مشکی قوام والے پان کی کھلا دیجیے اور پھر قدرت کا تماشا دیکھیں.انشاء الله دریاۓ ٹیمز کی دھلی ہوئی انگریزی میں پان پر لیکچر دیگا اور پھر لکھنوی لہجے میں آداب و تسلیمات کے بعد بیٹل لیف (betel leaf ) کی بجاۓ پان (paan) کہنے پر اصرار کریگا.(اگر بیہوش نہ ہوا ہوگا تو!)کیوں کہ پان محض کھانے کی چیز نہیں ایک تہذیب کہ نام ہے.

ہماری طرح ڈاکٹر صاحب بھی ماہنامہ افکار کے بند ہونے سے بڑے افسردہ تھے اور عمومی طور پر ادبی رسائل کی طرف لوگوں کے عدم توجہی کے رجحانات پرسیخ پا۔ لیکن اس میں وہ بڑا قصور ان ناشرین کا گردانتے ہیں جنہوں نے قیمتیں بڑھا بڑھا کر ادب کو لوگوں کی پہنچ سے دور کر دیا ہے۔ اس ضمن میں وہ پرانی کتابوں کے ٹھیلوں کی مثال دیا کرتے ہیں جہاں لوگوں کا ہجوم لگا ہوتا ہے کیونکہ لوگ پڑھنا چاہتے ہیں اور سستی کتابیں جو ان کی قوت خرید میں ہوں وہی لے سکتے ہیں اب وہ کسی بھی معیار کی ہوں۔ اپنے مضمون ادبی رسائل کا سیاپا میں رطب اللسان ہیں

ایک زمانہ تھا کہ اردو کے ادبی رسائل بڑی دھوم سے نکلا کرتے تھے اور ہاتھوں ہاتھ لیے جاتے تھے.پاکستان بننے کے بعد بھی کوئی بیس پچیس سال تک یہ عالم تھا کہ کسی ادبی پرچے میں کوئی اچھا مضمون یا افسانہ شائع ہوتا تو اسکا چرچا ہوا کرتا تھا.کافی ہاوس یا چاۓ خانے میں ہونے والی غیر رسمی ادبی نشستوں میں ان پر گفتگو ہوتی تھی لیکن رفتہ رفتہ منظر بدلتا گیا.ادبی رسائل کہ بازار سرد ہو گیا،انکے خریدار نہ رہے،ادب سے لوگوں کی دلچسپی کم ہوتی گئی.ادب محض تعلقات عامہ،فوائد کے حصول اور وقتی شہرت کاذریعہ بن گیا.حد سے حد مٹھی بھر لوگ ایسے رہ گئے جن کو ادب سے واقعی اور حقیقی دلچسپی ہے،بلکہ کچھ لوگوں کا تو خیال ہے کہ ہم لوگ ادب سے دلچسپی رکھنے والی آخری نسل کے افراد ہیں.

لیکن عام رجحان کے برعکس صاحب کتاب ٹیکنالوجی کو مورد الزام نہیں ٹہراتے۔ مزید لکھتے ہیں۔

ادب کی اس کساد بازاری پر بعض حضرات سائنس اور ٹیکنالوجی کو بھی صلواتیں سناتے پائے گئے ہیں.انکا خیال ہے کے ٹی وی ،وی سی آر،ڈش اینٹینا،ویڈیو گیمزاور انٹرنیٹ کے اس دور میں اگر کسی کے پاس ادب کے لیے وقت ہے تو وہ اسے زیادہ دلچسپ اور رنگوں اور روشنیوں میں نہائ ہوئی مصروفیات میں گذارنا چاہتا ہے.جب سے سائنس کو عروج ہوا ہے،ادب زوال پذیر ہو گیا ہے .لہٰذا سائنسی ترقیوں کو ادب کا دشمن سمجھنا چاہیے وغیرہ .

مزید لکھتے ہیں کہ

لیکن اگر ہم مغرب پر نظر ڈالتے ہیں تو حیران کن نظارہ سامنے آجاتا ہے سائنس اور ٹیکنالوجی اور کمپیوٹر وغیرہ میں ہم سے دو سو سال آگے چلنے والی اقوام کو مطالعے سے بےپناہ شغف ہے.کچھ عرصے قبل ہیری پوٹر کے سلسلے کی نئی کتاب منظر عام پر آئ،مغربی معاشرے مے گویا زلزلہ آگیا.کئی روز تک خبروں کا موضوع بننے والی اور فروخت کے نۓ ریکارڈ قائم کرنے والی یہ کتاب بَچوں کا ناول ہے،جس کا ہیرو ہیری پوٹر جادو سے واقف ہے.انٹرنیٹ پر چند ماہ قبل ہی سے اس کتاب کی خبریں آرہیں تھیں.اسے آٹھ جولائی کو رات بارہ بجے کتابوں کی دوکان سے باہر کیا بچے ،کیا بڑے قطار لگاے کھڑے تھے.
کہاں ہیں وہ لوگ جو کہتے ہیں کے کمپیوٹر کی وجہ سے کتاب نہیں بکتی؟کمپیوٹر اور انٹرنیٹ کی وجہ سے کتابوں کی فروخت میں خاصا اضافہ ہوا ہے کیوں کہ انٹرنیٹ پر کتابوں کی خبروں اور ان پر تبصروں نے کتاب کی مانگ میں اضافہ کیا ہے.ہیری پوٹر کی کتابوں کی مصنفہ جے کے رولنگ کو معاوضے کے طور پر کئی ملین ڈالرمل چکے ہیں اور اس سلسلے کی آخری کتاب یعنی”ہیری پوٹر اینڈ دی گو بلٹ آف فائر” کی صرف دو دن میں پانچ لاکھ سے زیادہ کاپیاں فروخت ہو گی ہیں اور ان میں سے تقریبن ایک لاکھ کاپیاں انٹرنیٹ کےذریعے بکی ہیں.یہ کتابیں اڑتالیس لاکھ کی تعداد میں شائع ہوئی ہے اور خیال ہے کے مزید بیس لاکھ کاپیاں فوری طور پر چھاپنی پڑینگی. یہ ہے سائنسی طور پر ترقی یافتہ معاشرے میں کتاب کی اہمیت اور قدرو قیمت کا حال.

اور اس کی بنیادی وجہ فاضل مصنف کے نزدیک یہ ہے کہ

لیکن یہ تو مغربی معاشرے کی بات ہے.ہمارے ہاں کتابوں کی فروخت تیزی سے کم ہو رہی ہے.اسکی ایک بری وجہ مہنگائی،اقتصادی بدحالی اور ناشرین کی لوٹ کھسوٹ ہے جو کتابوں کی قیمتیں اتنی زیادہ رکھتے ہیں کہ جو پڑھنا چاہتا ہے وہ بھی کتاب خریدنے کی ہمّت نہیں کر سکتا.ان پڑھ لوگوں یا پڑھے لکھےبد زوقوں کا تو ذکر ہی جانے دیجئے .

محترم ماہر لسانیات کو اگلے ناقدین سے بڑی انسیت ہے، خصوصا کلیم الدین احمد جو نقوش کے میں لکھا کرتے تھے ان کا ایک اقتباس بطور دلیل شامل کرتے ہیں کہ “نقوش” کے طنز و مزاح نمبر میں انہو نے لکھا:

“شوکت تھانوی اور عظیم بیگ چغتائی اپنی شہرت کے باوجود بھی کوئی اہمیت نہیں رکھتے اصل یہ ہے کہ دونوں کی ذہنیت ترقی کے مدراج طے کرنے کے دوران ایک خاص مقام پر پہنچ کر رک گی ہے اور یہ ذہنیت وہی ہے جسے”انڈرگریجویٹ”ذہنیت کہتے ہیں.دونوں استعداد بہم پہچانے سے پہلے مصنف بن بیٹھے.ان کے کارناموں کو اگر کسی طالب علم کہ کارنامہ شمار کیا جاۓ تو لائق تحسین ہے.اس سے زیادہ وقعت دینا تنقید اور مذاق صحیح پر دانستہ ظلم کرتا ہے”مزید لکھتے ہیں کے :”انہیں لازم تھا کہ جو کچھ لکھتے اسے محض مشق سمجھتے.لکھتے اور لکھ کر پھاڑ دیتے اور آہستہ آہستہ مطالعہ، مشاہدہ، غوروفکر میں وسعت، باریکی اور گہرائی پیدا کرنے کی کوشش کرتے”.

پی ار کے شعبے پر چوٹ کرتے ہوئے ڈاکٹر صاحب لکھتے ہیں کہ

دراصل تعلقات عامہ کا شعبہ اب اتنا زور پکڑ گیا ہے کہ اسکے زور پر ٹین ڈبےوالے بھی آرٹ کاؤنسل کے کرتا دھرتا بن جاتے ہیں اور کہا یہ جاتا ہے کہ “جی ادب سے انہیں بہت لگاؤ ہے اس لیےبنا دیا ہے”. اس جلدی چھپنے،مصنف کہلانے اور صاحب کتاب بننے کے جنون نے بہت اچھے لکھنے والوں کو خراب و خوار کیا ہے

اور پھر جو انہوں نے لکھا تو ہماری اور راشد کامران بھائی کی دل کی بات لکھی جو یونس بٹ صاحب کی حالیہ کتب خرید کر پچھتا رہے ہیں۔

ڈاکٹر محمّد یونس بٹ کو ہی لیجیے،بہت اچھی اٹھان تھی.لگتا تھا کے اردو مزاح کے گلستاں میں ایک نو بہارناز کا اضافہ ہوا چاہتا ہے.لیکن ایک تو انھوں نے انگریزی مزاح اور مشتاق احمد یوسفی کے فقروں کو استعمال کرنا شروع کیا، دوسرے بسیار نویسی کے سبب خود کو بھی دہرانا شروع کیا اور تھوک کے بھاؤ لکھنے کی وجہ سے خود کو ناقابل تلافی نقصان پہنچا لیا.

اور اخری اقتباس حاصل مضمون کے طور پر درج کرتا ہوں کہ

مرزا فرحت الله بیگ جیسے لکھنے والوں کو لوگوں نے زیادہ لکھنے پرطعنہ دیا تھا کہ انہیں لکھنے کہ ہیضہ ہو گیا ہے.جس پر انھوں نے کہا کہ بہت اچھا،اب مجھے لکھنے کہ قبض رہے گا.فرحت عبّاس شاہ کو تو خیر شاعری کہ ہیضہ ہو ہی گیا ہے اور ابھی بہت سے ایسے لکھنے والے ہیں کہ کم لکھیں تو اپنا، قارئین کا اور ادب کا سب کا بھلا کریں گے.برا ہوگا تو ناشرین کا جو فرحت عبّاس شاہ اور یونس بٹ وغیرہ کی کتابیں دھڑا دھڑ چھاپ کر نہال ہوئے جا رہے ہیں.

یہ تو جناب اس کتاب کا ایک نہائت سطحی سا تعارف تھا، اس تحریر کی تمام خرابیاں ہماری کم علمی اور نااہلی پر منطبق ہے، اس گوہر نایاب کتاب میں نہائت خوب علمی و ادبی بحثیں ہیں، الفاظ و املا کی ایسی نادر مثالیں ہیں کہ لفظوں سے محبت کرنے والے لوگ عش عش کر اٹھیں گے۔ ہدیہ ڈیڑھ سو روپے ہے اور امید ہے کہ لبرٹی یا اردو بازار سے یہ کتاب با اسانی مل سکتی ہے۔ اپنے تبصرہ جات سے ضرور اگاہ کیجئے گا۔

Share