عدنان مسعود کی سخن آرایاں۔ دروغ برگردن قاری

اداس نسلیں از عبداللہ حسین

کچھ کتابیں ایسی ہوتی ہیں جنہیں پڑھنے کے بعد آپ کو کم از کم اس صنف میں موجود دیگر کتب انکےآگے ہیچ لگنے لگتی ہیں، اپنی کم علمی کم مائگی کا احساس بڑھتا جاتا ہے کہ میاں، تم نے تو اس شہرہ آفاق ناول کو آج تک نہ پڑھا تھا اور بلاوجہ اردو ادب سے واقفیت کی ڈینگیں مارتے رہے وغیرہ وغیرہ۔ عبداللہ حسین کا ناول ‘اداس نسلیں’ بھی اسی قسم کی ایک نہایت اہم و دلچسپ کتاب ہے جو فکشن اور نان فکشن کے درمیانے احاطے میں با آسانی چہل قدمی کرتے ہوئے تین نسلوں کی سرگذشت سناتی ہے۔ ۱۹۶۳ میں چھپنے والے  اس ضخیم ناول کو اکثر برصغیر کے بٹوارے کی داستاں گردانا جاتا ہے لیکن پیش منظر میں بہت سے دیگر نہایت اہم موضوعات  زیر بحث رہے جن میں مقصد حیات، طبقاتی تقسیم، غربت و استحصال، سماجی اقدار، مذہب و کلچر کا آپسیں رشتہ، مذہب، الحاد اور عقل کے باہمی تعلق پر مکالمے شامل ہیں۔ اس کتاب کو سنگ میل پبلشرز نے شائع کیا ہے اور اسکا انگریزی ترجمہ بھی ویری نیشنز کے نام سے ایمزن پر دستیاب ہے جس کے بارے میں سننے میں آیا ہے کہ وہ ایک مبتدی کی ایک ماہر ہنر کے کام کو نقل کرنے کی کوشش ہے۔، واللہ عالم،

‘اداس نسلیں’ کا مرکزی کردار نعیم نامی ایک شخص ہے جس کی زندگی کے مختلف ادوار برصغیر کے مختلف سماجی میلانات اور سیاسی ادوارکے متوازی حرکت کرتے ہیں۔ گاوں کی سادہ محنت کش زندگی سے ہونے والی ابتدا، پھر مراعات یافتہ طبقے میں پلنا بڑھنا، گاوں کی زندگی میں واپسی، جنگ عظیم میں شرکت اور جنگ کی تمام ہولناکیوں کو اپنی آنکھوں سے دیکھنا، اور پھر رومانویت کی ایک داستان جس میں طبقاتی تقسیم زوروں پر دکھائ دیتی ہے۔ عبداللہ حسین نے سیاسی و سماجی بھول بھلیوں میں بھٹکتے اس شخص کی زندگی کے اتار چڑھاو سے ایک ایسی داستاں کا جال بنا ہے کہ جو قاری کو مستقل اپنے شکنجے میں جکڑے رکھتا ہے۔

یہ ناول ایک ‘ایپک’ داستاں ہے اور مہابھارت سے لے کر ہومر سے لے کر ایپک کی ایک خوبی اسکی طوالت ہوتی ہے۔ ۴۵۰ صفحات کی اس کتاب کو ایک کنٹیمپرری ایپک کہا جاسکتا ہے جس کے مصنف نے نا تو خود سے بٹوارہ دیکھا اور نا ہی انکی مادری زبان اردو ہے لیکن مکالمہ سازی، پلاٹ، کردار سازی اور قصہ گوئ میں عبداللہ حسین کو جو ملکہ حاصل ہے وہ عالمی ادب میں چیدہ چیدہ مصنفین کے پاس ہی نظر آتا ہے۔ لائف آف پائ کی تمثیل تو شائد مہمل ٹھرے لیکن ۱۷۷۶ کے ڈیوڈ میکیلگ بھی عبداللہ حسین سے تنوع سیکھ سکتے ہیں۔ دو کسانوں کی باہمی عامیانہ گفتگو ہو، نعیم اور انیس کا فلسفیانہ مکالمہ ہو، روشن علی آغا کی غدر میں سنہرے بالوں والے انگریز کو جان ہتیلی پر رکھ کر  بچانے کی لرزہ خیز کہانی ہو یا اینی بیسنٹ کا مجلس خدام ہند پر تبصرہ، مصنف نے اس خوبی سے ان تمام موضوعات کو ایک جامع ناول میں یکجا کیا ہے کہ ہر ایک کردار جدا بھی ہے اور بڑے کینوس کا حصہ بھی۔

یہ ناول اشفاق حسین کی طرح ‘پریچی’ نہیں، منٹو کی طرح ‘ایکسپلسٹ’ نہیں اور بانو قدسیہ کی طرح ‘انکلسوڈ’ نہیں۔ انگریزی کے اصطلاحات استعمال کرنے کی معذرت لیکن اداس نسلیں کے مصنف نے بھی اس امر میں کوئ شرم محسوس نا کی۔ مذہب و الحاد پر جس قسم کی عمیق و جداگانا بحث ہمیں انکے یہاں ملتی ہے اس کا عشر عشیر بھی آج کے ترقی پسند لٹریچر میں نظر نہیں آتا۔ عبداللہ حسین کے اس ناول نے جدید واقعہ گوئ کو درویش کے قصوں سے ملا کر ایک ایک نئی صنف کی بنیاد ڈالی ہے۔ ایک مچھیرے کی روداد پر لکھتے ہیں

. نیند پھر بھی نہ آئی. میں اٹھ کر چٹائی آگ کے قریب لے گیا. مگر چند ہی سانس لئے ہونگے کہ گرمی کی شدّت سے بلبلا اٹھا. اب میں اکڑوں بیٹھا تھا اور اپنی جسمانی حالت پر غور کر رہا تھا کہ سوچتے سوچتے مجھے ایک تجویز سوجھی. میں نے ٹوکری اٹھائی اور گندی مچھلیوں کو چن چن کر ایک طرف رکھا. “نیند تو آتی نہیں. آؤ تم سے گپیں ماریں. میں نے کہا اور ایک سڑی  ہوئی مچھلی اٹھائی. مچھلی کی باچھیں کھلی ہوئی تھی.

” میرا باپ زندہ ہوتا تو تمہیں مرنے سے پہلے ہی چھوڑ دیتا. لیکن میں تمہیں آسانی سے نہیں چھوڑنے کا کان کھول کر سن لو. میں نے کہا. “تم لکھ ہنسو’ لیکن تمہارے بچے اور دوسرے رشتہ دار تمہاری موت پر آنسو بہا رہے ہونگے.مچھلی اسی طرح ہنستی رہی. مجھے اس پر غصہ آگیا. ‘ تم سوتی نہیں؟ بے آرام جانور. تمھ مارے بھی ایک عرصہ ہو گیا پر بے دید آنکھیں اسی طرح کھلی ہیں. نہ خود سوتی ہیں نہ کسی کو سونے دیتی ہو لو…..’ یہ کہ کر میں نے اسے آگ میں اچھال دیا. تھوڑی ہی دیر میں خشک مچھلی تر ترا کر جلنے لگی. مگر اس کی آنکھیں اسی طرح کھلی تھی اور آگ میں پڑی ہوئی وہ ابھی تک ہنس رہی تھی. میں نے غصّے میں دوسری مچھلی کو بھی اٹھا کر آگ میں پھینکا. یہ مقابلتا سنجیدہ چہرے والی مچھلی تھی  لیکن یہ بھی جاگ رہی تھی. جلتی ہوئی مچھلی کی چربی کی بو ہر طرف پھیل رہی تھی جو کہ اگر تم نے کبھی سونگھی ہے بچو تو تمہیں پتا ہوگا کہ کافی اشتہاء آور ہوتی ہے مگر آدھی رات کے وقت میں نے زیادہ کھانا مناسب نہ سمھجا اور بھوک کو کسی اور وقت پر ٹال کر ایک اور مچھلی اٹھائی.
“تمہاری جلد بڑی خوبصورت اور نرم ہے. شاید کوئی گاہک مل جاۓ. تم آرام کرو.” یہ کہہ کر میں نے اسے ایک طرف رکھ دیا.
“یہ تجویز کارگر ثابت ہوئی اور کافی دیر تک اس کے ساتھ گپ شپ کرنے اور ناکارہ مچھلیوں کو جلانے کے بعد میں خود بخود سو گیا.

اور جلیانوالہ باغ کا سانحہ ایک عام فرد کی آنکھوں سے دیکھیں۔

“دروازے میں سے ابھی تک چلاتے ہوئے لوگ داخل ہو رہے تھے. مسلمان اپنے خدا اور مذہبی رہنماؤں کا نام لے کر اور ہندو اور سکھ اپنے اپنے خداؤں کو پکار پکار کر نعرے لگا رہے تھے. جب میں مڑا تو سب لوگ ایک سیاہ داڑھی والے شخص کی طرف دیکھ رہے تھے جو ایک اونچی جگہ پر کھڑا مجمعے کو چپ کرانے کے لیے ہاتھ پاؤں مر رہا تھا. اس کی داڑھی ہوا میں ہل رہی تھی لیکن وہ اپنی کوشش میں کچھ زیادہ کامیاب نہ رہا.دیکھتے ہی دیکھتے اس کے پیچھے ایک گورا نمودار ہوا جس نے فوجی افسروں کی وردی پہن رکھی تھی.اس نے دھکا دے کر کالی داڑھی والے کو نیچے گرا دیا اور اسی کی طرح ہاتھ ہلا ہلا کر کچھ کہنے لگا. ایک لمحے کے لیے خاموشی چھا گئ اور اس کی انتہائی غصیلی آواز ہمارے کانوں میں آئ. اس کی بات کسی کی سمجھ میں نہ آئی لیکن اسکی حرکات و سکنات سے ظاہر تھا کہ وہ ہمیں وہاں سے دفع ہو جانے کو کہہ رہا ہے. اچانک شور پھر بلند ہوا اور اسکی آواز دب گئی. ایک طرف سے کسی نے جوتا اتار کر اسکی طرف پھینکا. پھر ہر طرف سے جوتوں کی یلغار شروع ہوئی. ساتھ ساتھ مجمع مکمل حرکت میں تھا.کیونکہ اس دھکم پیل میں ایک جگہ روکنا سخت مشکل تھا. اب آس پاس سے ہزاروں نئے اور پرانے جوتے پھینکے جا رہے تھے اور ہوا میں جوتوں کی یلغار تھی جیسے دریا کی سطح پر سے مرغابیوں کی زار اڑ کر ایک لمحے کے لیے اندھیرا کر دیتی ہے……لیکن فوجی افسر کے ارد گرد کے لوگ ڈرے ہوئے چپ چاپ کھرے ہوئے تھے اور پیچھے سے آنے والے جوتے ان کے سروں پر گر رہے تھے. اس وقت میں نے ہوشیاری سے کام لے کر اپنے جوتے سنبھال کر رکھے کیونکہ  میرے پاس’ تم جانتے ہو بچوں کہ جوتوں کا صرف ایک ہی جوڑا ہے. جب جوتے ختم ہو گئے تو لوگوں نے اپنے کپڑے اتاراتار کر پھینکنے شروع کر دیئے. اب پگڑیوں ‘ قمیضوں اور بنیانوں کے گولوں کی بوچھاڑ ہو رہی تھی اور جلد ہی آدھے سے زیادہ لوگ ننگے بدن ہو گئے بلکہ بعض تو بےحیائی سے کام لے کر سب کچھ ہی نکال کر پھرنے لگے. جب سب کچھ ختم ہو گیا تو صرف شور باقی رہ گیا جو کہ ہجوم اور وہ فوجی افسر مل کر مچا رہے تھے. اتنے میں میرے آگے کھڑا ہوا ایک شخص مڑا اور میری ٹوکری کی طرف بڑھا. میں پیچھے ہٹا تو عقب میں دس بارہ ہاتھوں نے ٹوکی گھسیٹ لی اور اس میں سے مچھلیاں اٹھا کر خونباز نظروں سے مجھے دیکھنے لگا. پھر پورے زور سے انہوں نے مچھلیاں ہزاروں انسانی سروں کے اوپر سے اس طرف کو پھینکیں. جن لوگوں پر وہ گریں انہوں نے اٹھا کر آگے پھینکیں’ پھر آگے’ اور آگے’ اور اسی طرح ایک مچھلی جا کر فوجی افسر کی آنکھوں کے درمیان لگی. اس نے وہیں پر اسے پکڑ لیا اور یل لحظے تک اسے دیکھتا رہا’ پر سر اٹھا لر مجمعے کو دیکھا’ پھر مچھلی کو ‘ پھر مجمعے کو. دفعتا اس نے مچھلی مچھلی سر سے بلند کی اور پوری طاقت سے اسے سامنے کھڑے شخص کے منہ پر کھینچ مارا. پھر اس نے بازو ہوا میں پھینکے اور پاگلوں کی طرح چیخ مار کر چلایا. اسی وقت گولی چلنی شروع ہوئی..

اس کتاب کو ختم کرنے میں وقت کی کم کی وجہ سے مجھے تقریبا ایک ہفتہ لگا۔ اگر آپ نے اردو ناول کے صف اول کی کتاب پڑھنی ہے تو اداس نسلیں آپ کی تپائ پر یقینا دھرا ہونا چاہیے۔

Share

4 Comments to اداس نسلیں از عبداللہ حسین

  1. May 29, 2012 at 1:42 am | Permalink

    بہت عمدہ کتاب اور بہت اعلیٰ تبصرہ

  2. May 29, 2012 at 1:54 pm | Permalink

    میرا مطالعہ واجبی سا ہے اس لیے اختلاف کی پیشگی معذرت چاہتا ہوں۔ اداس نسلیں پڑھ کر مجھے ایسا لگا کہ جیسے کسی روسی ادیب کا اردو ترجمہ پڑھ رہا ہوں۔ پتہ نہیں میرا کہنا درست ہے یا نہیں کہ عبداللہ حسین کے پاس منظر نگاری اور کردار سازی کی کتنی ہی صلاحیتیں کیوں نا ہوں آپ ان کو پڑھتے ہوئے اپنی نشست پر موجود رہتے ہیں۔ اسکے برعکس ممتاز مفتی آپکو جذباتی طور پر اپنی کہانی میں شامل کرلیتا ہے چاہے اسکی وجہ کچھ ہی کیوں نا ہو۔ اداس نسلیں میں باوجود کوشش کے کبھی بھی مکمل نہیں کرسکا

Leave a Reply

You can use these HTML tags and attributes: <a href="" title=""> <abbr title=""> <acronym title=""> <b> <blockquote cite=""> <cite> <code> <del datetime=""> <em> <i> <q cite=""> <s> <strike> <strong>