عدنان مسعود کی سخن آرایاں۔ دروغ برگردن قاری

خطبات بہاولپور از ڈاکٹر حمید اللہ کا مختصر تعارف

اسلامی تاریخ کے طالبعلموں کے لئے ڈاکٹر حمید اللہ کی شخصیت کسی تعارف کی محتاج نہیں۔ ڈاکٹر صاحب ایک نابغہ روزگار شخصیت تھے کہ جن کی تحقیقی اور دعوت دین کے لئے کی جانے والی خدمات کا مقابل عصر حاضرمیں شاید ہی کوئی مل پائے۔ ڈاکٹر حمیداللہ نے جامعہ عثمانیہ حیدرآباد دکن سے ایم اے، ایل ایل بی کی ڈگریاں حاصل کرنے کے بعد جرمنی کی بون یونیورسٹی سے اسلام کے بین الاقومی قانون پر تحقیقی مقالہ لکھ کر ڈی فل کی ڈگری حاصل کی۔ بعد ازاں فرانس کی سوبورن یونیورسٹی پیرس سے عہد نبوی اور خلافت راشدہ میں اسلامی سفارت کاری پر مقالہ لکھ کر ڈاکٹر آف لیٹرز کی سند پائی۔ جامعہ عثمانیہ کے علاوہ جرمنی اور فرانس کی جامعات میں درس و تدریس کے فرایض انجام دینے کے بعد ڈاکٹر حمیداللہ فرانس کے نیشنل سینٹر آف ساینٹفک ریسرچ سے تقریبا بیس سال تک وابستہ رہے۔ آپ اردو، فارسی، عربی اور ترکی کے علاوہ انگریزی، فرانسیسی، جرمن ، اور اطالوی زبان پر بھی عبور رکھتے تھے۔ آپ کی کتابوں اور مقالات کی تعداد سینکڑوں میں ہے جس میں فرانسیسی زبان میں آپ کا ترجمہ قران ، اور اسی زبان میں‌دو جلدوں میں سیرت پاک ، قران کی بیبلیوگرافی ‘القران فی کل اللسان’ کے علاوہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی سیاسی زندگی پر محققانہ تصانیف ‘بیٹل فیلڈز محمد صلی اللہ علیہ وسلم ‘ ، ‘مسلم کنڈکٹ آف اسٹیٹ’ اور ‘فرسٹ رٹن کانسٹیٹیوشن’  خاص طور پر قابل ذکر ہیں۔
Khutbat bahawalpur
ڈاکٹر صاحب کی تحریر کی خوبی آپ کا آسان، عام فہم اور دعوتی انداز بیاں ہے۔ آپ کی تحریروں میں عالمانہ انکسار اور افہام و تفہیم کا جز جگہ جگہ نظر آتا ہے۔ ڈاکٹر صاحب کی تحریر و تقریر میں جارحانہ انداز بیاں کو کہ آجکل کے علما کا خاصہ ہے ذرا نظر نہیں آتا۔ آپ تحقیق کا نچوڑ اور متقابل قاری کے سامنے رکھ دیتے ہیں اور اپنی راے بیان کر کے قاری کو اپنی راے متعین کرتنے کا موقع دیتے ہیں۔ یہ انداز جدید دور کے قاری کے لئے نہایت متاثر کن ہے۔ آپ کی عمر کا ہر لمحہ علمی تحقیق اور طلب علم میں‌گذرا ۔ 17 دسمبر 2002 کو اسلام کا یہ فرزند اپنے خالق حقیقی سے جا ملا۔ فرانس میں‌قیام کے دوران ڈاکٹر صاحب سے ملاقات کا اشتیاق رہا لیکن شومی قسمت سے وہ جب تک صحت کی خرابی کی وجہ سےامریکہ منتقل ہو چکے تھے۔ اب جیکسن ول فلارڈا میں‌ہارڈیج گنز فیونرل ہومز میں منوںمٹی کے نیچے آرام فرما ہیں اور آپکا صدقہ جاریہ، کتابیں اور تحقیقی مقالہ جات دین کے طالبعلموں‌کے لئے زاد راہ ہیں۔
خطبات بہاولپور آپ کے مارچ 1980 میں جامعہ اسلامیہ بہاولپور میں‌ دئے جانے والے لیکچرز کی جمع کردہ کتابی شکل ہے۔ ان  تیرہ عدد خطبات میں مندرجہ زیل موضوعات پر گفتگو کی گئی ہے۔ تاریخ قران مجید، تاریخ  حدیث شریف، تاریخ فقہ، تاریخ اصول فقہ و اجتہاد، قانون بین الممالک، دین عقائد عبادات تصوف، مملکت اور نظم و نسق، نظام دفاع اور غزوات، نظام تعلیم اور سرپرستی علوم، نظام تشریع و عدلیہ، نظام مالیہ و تقویم، تبلیغ اسلام اور غیر مسلموں سے برتاو۔ یہ کتاب عام فہم انداز میں تحریر کردہ ہے لیکن موجودہ دور کے کئی پیچیدہ سوالوں کے عام فہم اور با معنی جوابات کے لئے اس کا مطالعہ نہایت اکثیر ہے اور اس میں ہمارے لئے فروعات سے نکل کر اصول کی پیروی کرنے کے لئے بہت خوب نصیحت ہے۔
سوال جواب کے حصے سے ایک مختصر ٹکڑا یہاں پر مثال کے طور پر پیش کر رہا ہوں۔ ایک نہایت دقیق اور مشکل مسئلہ کے آسان اور جامع جواب کو ہی شائددریا کو کوزے میں بند کرنا کہتے ہیں۔ آپ ڈاکٹر حمیداللہ کیے نقطہ نظر سے متفق ہوں یا نا ہوں، انکی علمی استعداد اور عام فہم انداز میں صلاحیتوں کے ضرور معترف ہو جا ئیں گے۔
Share

7 Comments to خطبات بہاولپور از ڈاکٹر حمید اللہ کا مختصر تعارف

  1. July 29, 2010 at 11:42 pm | Permalink

    تصویری عکس میں نہایت اہم بات بیان کی گئی ہے۔ حکومت چاہے جو بھی ہو اہمیت عدل کی ہی ہے اور اس میں کوئی شک نہیں۔ عدل انصاف ہو گا تو لوگ بھی خوش رہیں گے اور امن بھی ہو گا

  2. طالوت's Gravatar طالوت
    July 30, 2010 at 2:49 am | Permalink

    عدنان مسعود ، بلاشبہ حمید اللہ صاحب نابغہ روزگار شخصیات تھے۔ اور ان کی خدمات ناقابل فراموش ہیں ۔ بلکہ انھوں نے اٌپنے فرض کو خوب خوب ادا کیا ۔
    کیا آپ بتا سکیں گے کہ مرحوم کی اردو کتب کہیں انٹرنیٹ پر دستیاب ہیں ؟
    وسلام

  3. July 30, 2010 at 3:24 am | Permalink

    السلام علیکم
    ڈاکٹر حمید اللہ کے بارے میں زیادہ نہیں جانتا ، بس تھوڑا بہت سنا سنایا ہی ہے۔ معلومات شیئر کرنے کا بہت شکریہ۔
    اگر اس حوالے سے مزید معلومات بھی شیئر کر سکیں تو ہمیں ان کے بارے جاننے کا موقع ملے گا۔
    اور ایک گزارش ہے کہ بلاگران کے روابط میں میرے بلاگ کا ربط اپڈیٹ کر دیں کیونکہ میں نئے ڈومین پہ جا چکا ہوں۔
    بہت شکریہ۔

  4. July 30, 2010 at 3:51 am | Permalink

    ڈاکٹر صاحب واقعی ایک نابغۂ روزگار شخصیت تھے، اللہ تعالیٰ انکے ادرجات بلند فرمائے۔

    ڈاکٹر صاحب کے دو خطبے”تاریخِ قرآن مجید” اور “تاریخ، حدیث شریف” ان روابط پر پڑھے جا سکتے ہیں
    http://www.urduweb.org/mehfil/showthread.php?13378-%D8%AA%D8%A7%D8%B1%DB%8C%D8%AE-%D9%82%D8%B1%D8%A2%D9%86-%D9%85%D8%AC%DB%8C%D8%AF-%D8%A7%D8%B2-%DA%88%D8%A7%DA%A9%D9%B9%D8%B1-%D9%85%D8%AD%D9%85%D8%AF-%D8%AD%D9%85%DB%8C%D8%AF-%D8%A7%D9%84%D9%84%DB%81-%D9%85%D8%B1%D8%AD%D9%88%D9%85

    http://www.urduweb.org/mehfil/showthread.php?14092-%D8%AA%D8%A7%D8%B1%DB%8C%D8%AE-%D8%AD%D8%AF%DB%8C%D8%AB-%D8%B4%D8%B1%DB%8C%D9%81-%D8%A7%D8%B2-%DA%88%D8%A7%DA%A9%D9%B9%D8%B1-%D8%AD%D9%85%DB%8C%D8%AF-%D8%A7%D9%84%D9%84%DB%81

    والسلام

  5. July 30, 2010 at 5:38 am | Permalink

    سبحان اللہ، بہت اچھی شئیرنگ کی آپ نے۔

  6. July 30, 2010 at 5:49 am | Permalink

    یار مجھے ڈاکٹر حمید اللہ کی کتابیں درکار ہیں، انگریزی والی۔ ای بک کے فارمیٹ میں۔ کسی لائبریری تک رسائی حاصل ہے آپ کو؟ یا کسی دوست کو۔ میں مترجم کا کام کرتا ہوں، ان کا ترجمہ کرنا چاہوں گا، ایک تو میرا علم بڑھے گا دوسرے شادی کوئی رزق روزی بھی چل جائے۔

  7. August 1, 2010 at 11:35 pm | Permalink

    ڈاکٹر حمید اللہ کی جس چیز نے مجھے سب سے زیادہ متاثر کیا وہ ان کی علمی پیاس اور منکسر المزاجی تھی۔ اتنا زیادہ با علم ہونے کے باوجود ان میں انکسار بہت زیادہ تھا۔ چند معاملات پر ان کی رائے سے اختلاف کے باوجود وہ انتہائی قابل احترام شخصیت تھے۔ وارث بھائی کے نشاندہی کردہ دو خطبات کے علاوہ چند اور خطبات بھی میرے پاس کمپوز شدہ صورت میں موجود ہیں۔ کوشش ہوگی کہ جلد خطبات بہاولپور کے تمام خطبات تحریری صورت میں انٹرنیٹ پر ڈاؤنلوڈ کے لیے پیش کر دیے جائیں۔
    میں بہت عرصے سے ڈاکٹر صاحب پر کچھ لکھنا چاہ رہا تھا، ایک تحریر شاید کئی ماہ سے میرے بلاگ کے ڈرافٹ میں پڑی ہے۔ آپ کی اس تحریر نے مجھے یاد دلا دیا۔ کوشش کروں گا کہ اس تحریر کو مکمل کروں۔

Leave a Reply

You can use these HTML tags and attributes: <a href="" title=""> <abbr title=""> <acronym title=""> <b> <blockquote cite=""> <cite> <code> <del datetime=""> <em> <i> <q cite=""> <s> <strike> <strong>