عدنان مسعود کی سخن آرایاں۔ دروغ برگردن قاری

پی ایچ ڈی کا کیا مفہوم ہے؟

کمپیوٹر سائنس میں ڈاکٹریٹ کا طالبعلم ہونے کی بنا پراحباب یہ سوال اکثر پوچھا کرتے ہیں۔ مندرجہ ذیل تصویری مثال پی ایچ ڈی کے مرکزی خیال کو بہت اچھے طریقے سے اجاگر کرتی ہے۔ یہ تصویری مضمون ڈاکٹر میٹ مائٹ، اسسٹنٹ پروفیسر دارلعلوم کمپیوٹنگ، جامعہ یوٹاہ کی تحریری اجازت سے ترجمہ کر کے اس بلاگ پر شائع کیا جا رہا ہے۔ انگریزی متن یہاں ملاحظہ کیا جاسکتا ہے۔

تصور کریں‌کہ مندرجہ ذیل دائرہ تمام موجودہ انسانی علم کو ظاہر کرتا ہے۔

جب آپ پرائمری اسکول ختم کرتے ہیں تو آپ کواس علم کا تھوڑا سا حصہ حاصل ہوتا ہے۔


جب آپ کالج کی تعلیم ختم کرتے ہیں تو آپ کا دائرہ علم مزیدبڑھ جاتا ہے۔

بیچلرز کی ڈگری کے ساتھ آپ کسی ایک ‌خصوصی مضمون میں مہارت حاصل کر لیتے ہیں۔

ماسٹرز کی ڈگری اس مضمون کی خصوصی مہارت کو مزید بڑھا دیتی ہے

تحقیقی مقالہ جات اور مضامین کا مطالعہ آپ کو اس خصوصی مضمون کے بارے میں موجودہ انسانی معلومات کی حد پر لے جاتا ہے۔

اس نہج پر پہنچ جانے کے بعد آپ اپنی توجہ اس حد پر مرکوز کر دیتے ہیں

آپ اس حد کو پار کرنے کے لیئے کچھ سال تک محنت و مشقت کرتے ہیں۔

کہ ایک دن، وہ حد اپنی جگہ سے ہٹ جاتی ہے

پی ایچ ڈی

اور اس دائرہ میں جو نشان پڑتا ہے اسے پی ایچ ڈی کہا جاتا ہے

اب آپکو دنیا مختلف لگتی ہے، اپنے دائرہ علم کے نشان کی مانند

اسی لئے ‘بگ پکچر’ یا عمومی دائرہ علم کی بڑی حقیقت کو فراموش نا کریں

علوم انسانی کی حدود کو پار کرنے کی کوششیں جاری رکھیں۔

Share

13 Comments to پی ایچ ڈی کا کیا مفہوم ہے؟

  1. August 14, 2010 at 8:59 am | Permalink

    شکریہ جناب
    آپ خوش قسمت ہیں کہ آپکو کچھ اندازہ ہے کہ پی ایچ ڈی کیا ہوتی ہے اور پی ایچ ڈی کون ہوتا ہے۔ یہاں تو یہ حالت ہے کہ تیسرا برس جاری ہے اور ٹامک ٹویاں مار رہا ہوں۔
    :(

  2. August 14, 2010 at 10:51 am | Permalink

    پی ایچ ڈی کا دوجا مطلب ہے کہ آپ نے اپنے آپ کو محدود کرلیا ہے۔ ننھے سے نکتے پر پی ایچ ڈی ہوجاتی ہے۔ ہاں انسانیت کا علم بڑھ جاتا ہے لیکن فرد کا علم ایک خاص علاقے تک محدود رہ جاتا ہے پھر۔ اسے ہم ایریا کہتے ہین۔ سر جی تہاڈا کی ایریا اے؟ سر جی بتاتے ہیں سماجی لسانیات۔ اور ان سے گرامر کا سوال پوچھو تو کہتے ہیں بچے میرا ایریا یہ نہیں ہے۔

  3. August 14, 2010 at 6:09 pm | Permalink

    کوئی چھ دہئياں قبل ميں نے پڑھا تھا
    عِلم اور عالم کی مثال ہوا اور غُبارے کی ہے ۔ جتنی زيادہ ہوا غبارے ميں بھری جائے اتنی ہی زيادہ ہوا غبارے کو اپنے باہر نظر آتی ہے

  4. August 14, 2010 at 9:58 pm | Permalink

    یعنی خطرے کا لیول کراس ہو جاتا۔

  5. August 15, 2010 at 6:20 am | Permalink

    تصویری وضاحت خوب ہے۔

  6. August 15, 2010 at 7:21 pm | Permalink

    کسی فلاسفر کا ایک گاؤں سے گذر ہوا ۔ اس نے دیکھا کہ ایک آدمی نے رہٹ یعنی کنواں چلا رکھاہے۔ اور پانی کنوئیں سے باہر کھیتوں کو جارہا ہے۔کنوئیں پہ پانی نکالتے ہوئے بیل متواتر گھوم رہے ہیں اور انکے گلے میں بندہی گھنٹیاں متواتر بج رہی ہیں۔ فلاسفر چونکہ ہر بات کو ایک مخصوص نظر سے محسوس کرتے ہیں ۔ اس نے دیہاتی کو جو قریب ہی کھیت کو پانی دے رہا تھا اس سے استفسار کیا کہ یہ بیلوں کہ گلے میں گھنٹیاں کیوں باندھ رکھی ہیں؟۔ دیہاتی نے جواب دیا اسلئیے گھنٹیاں باندھی ہیں کہ اگر بیل رُک جائیں تو گھنٹیوں کی آواز کے تھم جانے سے مجھے بیلوں کے رکنے کا فوری پتہ چل جائے۔ فلاسفر نے دہاتی کو مخاطب ہو کر کہااگر پانی نکالنے کی مشقت سے بچنے کے لئیے ،بیل ایک ہی جگہ پہ رُک کر گردن ہلاتے رہیں اور کنوئیں سے پانی نکالنے کی مشقت سے بچ جائیں تو پھر تمہیں کیسے پتہ چلے گا کہ تمہارے بیل رُک گئے ہیں؟۔ دیہاتی نے جواب دیا کہ بیل ایسا نہیں کریں گے ۔ فلاسفر نے دیہاتی سے استفسار کیا کہ بیل کیوں ایسا نہیں کریں گے؟۔

    دیہاتی نے کمال بے نیازی سے جواب دیا اسلئیے کہ وہ بیل ہیں ،فلاسفر نہیں۔

    مبینہ اور مسقتبل کے فلاسفی ڈاکٹرز سے معذرت کے ساتھ۔دنیا میں بیل اور دیہاتی جیسے لوگوں کا وجود بھی اتنی ہی اہمیت رکھتا ہے جتنا صاحب علوم کا وجود اہمیت رکھتا ہے۔ ورنہ نظام زندگی ٹھپ ہوسکتا ہے۔

  7. August 16, 2010 at 11:29 am | Permalink

    میں نے تو یہ سوچ کر اس تحریر پہ قدم رکھا کہ لکھا ہوگا کہ دائرے کے محیط میں سوراخ ہونے کی وجہ سے سارا علم اس راستے لیک ہو جاتا ہے اور دائرہ آخیر میں پھر خالی رہ جاتا ہے۔ مگر آپ نے تو کچھ سنجیدہ بات کہہ ڈالی۔ یا حیرت۔
    ابو عزام صاحب، آپکی یہ بات درست نہیں کہ پی ایچ ڈی ایک طرح کی اسپیشلائزیشن ہے۔ یہاں بہت سے لوگ اسی غلط فہمی میں ہیں۔ یہ دراص ایک طرح کی تربیت ہے دماغ کو آزاد روی سے سوچنے کی طرف لے جانے کی۔ اس لئے اسکی تحقیق کے عنوان سے لیکر نتائج کو جمع کرنا اور پھر انکا دفاع کرنا پی ایچ ڈی کرنے والے کی ذمہ داری ہوتا ہے۔ جبکہ ماسٹرز کی ڈگری تک یہ ٹریننگ نہیں ہوتی۔
    پی ایچ ڈی کا مطلب ویژن یا بصیرت پیدا کرنا ہوتا ہے۔ اپنے راستے خود متعین کرنا،امشاہدات سے اپنے ذاتی نتائج نکالنے کی اہلیت رکھنا، اس وقت جب تمام لوگ سمجھتے ہیں کہ رات نجانے کتنی لمبی ہے اس چیز کی اہلیت رکھنا کہ صبح کے آنے کے آثار ہیں یا نہیں۔
    اگر کوئ شخص پی ایچ ڈی کی بنیادی ضروریات کو پورا کرتا ہے تو چاہے وہ کسی بھی میدان سے تعلق رکھتا ہو، ، تمام پی ایچ ڈیز کی طرح اس میں ایک خوبی ہوگی اور وہ یہ کہ وہ ویژن رکھتا ہوگا۔ یہ بات اسی سے سمجھ لینی چاہئیے کہ کیوں کچھ لوگوں کو پی ایچ ڈیز کی اعزازی ڈگری دی جاتی ہے۔

  8. August 17, 2010 at 12:40 am | Permalink

    پی ايچ ڈی کی بہت اچھی اور قوی تعريف لکھی گئی ہے مگر محترمہ نے پی ايچ ڈی کا دفاع کرتے ہوئے اسے کمزور بنا ديا ہے ۔ جو اوصاف پی ايچ ڈی کی بدولت پيدا ہونے کا کہا گيا ہے وہ پہلے سے ہی نہ ہوں تو طالبعلم پی ايچ ڈی کے قابل نہيں ہوتا ۔
    فيصل آباد جب اس کا نام لائيلپور تھا اور سندھ ميں غالباً جامشورو ميں 1974ء ميں بی ايس سی اگريکلچر والوں کو يہی کام کرتے ديکھا تھا جو محترمہ نے پی اي ڈی کرنے کے بعد کی خاصيت بيان کی ہے ۔
    جن لوگوں نے تحقيق کرکے پھلوں – سبزيوں اور اناج کی عمدہ يا نئی قسميں دريافت کيں انہوں نے بی ايس ای يا ايم ايس ای پر ہی اکتفا کيا

  9. BuRi's Gravatar BuRi
    September 18, 2010 at 1:43 pm | Permalink

    Ph.D mean PHIRA HUWA DIMAGH :D

  10. رابعہ مینائی شاہ's Gravatar رابعہ مینائی شاہ
    September 19, 2010 at 7:35 pm | Permalink

    ۔ابو عزام صاحب ، بہترین وضاحت ہے۔ بہت خوب ۔۔
    یعنی “جس سے ملے ، جہاں سے ملے، جسقدر ملے” کے مصداق علم حاصل کرنے کا تسلسل جاری رہے۔

Leave a Reply

You can use these HTML tags and attributes: <a href="" title=""> <abbr title=""> <acronym title=""> <b> <blockquote cite=""> <cite> <code> <del datetime=""> <em> <i> <q cite=""> <strike> <strong>